حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 312
حیات احمد ۳۱۲ جلد چهارم واقعہ باتیں بلکہ تہمتیں اپنی طرف سے اس عاجز کی نسبت ان کو سنائیں اور کہا کہ یہ شخص رسالت کا دعوی کرتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم سے منکر ہے اور کہتا ہے کہ مسیح جس پر انجیل نازل ہوئی تھی وہ میں ہی ہوں۔ان باتوں سے عربی صاحب کی دل میں یہ مقتضائے غیرت اسلامی ایک اشتعال پیدا ہوا۔تب انہوں نے عربی زبان میں اس عاجز کی طرف ایک خط لکھا۔جس میں یہ فقرات بھی درج تھے۔اِن كُنْتَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ فَانْزِلْ عَلَيْنَا مَآئِدَةً أَيُّهَا الْكَذَّابُ۔إِنْ كُنْتَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ فَانْزِلْ عَلَيْنَا مَآئِدَةً أَيُّهَا الدَّجَّالُ - یعنی اگر تو عیسی ابن مریم ہے تو اے کذاب اے دجال ہم پر مائدہ نازل کر لیکن معلوم نہیں کہ یہ کس وقت کی دعا تھی کہ جو منظور ہوگئی۔اور جس مائدہ کو دے کر خدا تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے آخر وہ قادر خدا انہیں اس طرف کھینچ لایا۔لودھیانہ میں آئے اور اس عاجز کی ملاقات کی اور سلسلہ ء بیعت میں داخل ہو گئے۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي نَجَّاهُ مِنَ النَّارِ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ مَآئِدَةَ مِّنَ السَّمَاءِ ان کا بیان ہے کہ جب میں آپ کی نسبت بُرے اور فاسد ظقوں میں مبتلا تھا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص مجھے کہتا ہے کہ يَا مُحَمَّدُ اَنْتَ كَذَّابٌ یعنی اے محمد کذاب تو ہی ہے۔اور ان کا یہ بھی بیان ہے کہ تین برس ہو گئے میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ عیسیٰ آسمان سے نازل ہو گیا۔اور میں نے اپنے دل میں کہا تھا کہ انشاء اللہ القدیر میں اپنی زندگی میں عیسی کو دیکھ لوں گا۔“ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۵۳۹،۵۳۸) اسی شخص نے ۲۰ محرم ۱۳۱۱ھ مطابق ۲ ستمبر ۱۸۹۳ء) کو حضرت کے نام ایک خط لکھا جس میں اس نے اپنے مکہ معظمہ میں بخیریت پہنچنے اور بعد حج اپنے احباب اور دوسرے لوگوں میں تبلیغ سلسلہ کا ذکر کیا۔اور بتایا کہ بعض انکار کرتے ہیں اور بعض تصدیق خصوصا الشیخ علی طالع کا ذکر کیا کہ وہ بہت محظوظ ہوئے اور انہوں نے تصدیق کی اور انہوں نے کہا کہ حضرت مکہ کب آئیں