حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 311
حیات احمد ۳۱۱ جلد چهارم حضرت کے دعویٰ مسیح موعود کو سنا۔اور سخت تکذیب کا خط لکھا۔مگر یہ عداوت حق پوشی کے جذبہ سے نہ تھی بلکہ حق جوئی اس کے نہ میں تھی۔آخر اللہ تعالیٰ نے ہدایت نصیب کی اور وہ مخلص سلسلہ میں داخل ہو گیا۔حضرت اقدس نے آپ کا تذکرہ حسب ذیل الفاظ میں کیا ہے۔رجبی فی اللہ محمد ابن احمد مکی من حارہ شعب عامر۔یہ صاحب عربی ہیں اور خاص مکہ معظمہ کے رہنے والے ہیں۔صلاحیت اور رشد اور سعادت کے آثار ان کے چہرہ پر ظاہر ہیں اپنے وطن خاص مکہ معظمہ سے زَادَهُ اللَّهُ مَجْدًا وَ شَرَفًا بطور سیر وسیاحت اس ملک میں آئے اور ان دنوں میں بعض بد اندیش لوگوں نے خلاف بقیہ حاشیہ سمجھتا ہے تو اس پر فرض ہے کہ وہ بھی اس رسالہ کی نظیر لکھے۔اور عیسائیوں کی طرح پانچ ہزار روپیہ انعام پاوے ورنہ بجز اس کے ہم کیا کہیں کہ لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِینَ۔شیخ جی جو کچھ آپ کی ذلّت ظاہر ہورہی ہے۔اور آپ کے علم کی پردہ دری ہوتی جاتی ہے۔یہ اس الہام کی تکمیل کی شاخیں ہیں جولا ہور کے ایک بڑے جلسہ میں آپ کو سنایا گیا تھا کہ اِنّى مُهِينٌ مَنْ اَرَادَ اِهَانَتَكَ آپ خدا تعالیٰ سے لڑیں۔دیکھیں کب تک لڑیں گے۔آپ نے کہا تھا کہ میں نے ہی اونچا کیا اور میں ہی گراؤں گا۔اس قدر دوطرفہ جھوٹ سے شیطان کو بھی پیچھے ڈال دیا۔جس کو خدا اونچا کرے۔کیا کوئی ہے کہ اس کو گرا سکے؟ آپ اور آپ کی جماعت کیا چیز اور آپ کی دشمنی کیا حقیقت کیا خدا ایسے موزیوں کے تباہ کرنے کے لئے اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں؟!! لوگوں کے بغضوں اور کینوں سے کیا ہوتا ہے جس کا کوئی بھی نہیں اس کا خدا ہوتا ہے بے خدا کوئی بھی ساتھی نہیں تکلیف کے وقت اپنا سایہ بھی اندھیرے میں جدا ہوتا ہے الراقم المشتهر میرزا غلام احمد قادیانی عفی اللہ عنہ ۱۷ / مارچ ۱۸۹۳ء تبلیغ رسالت جلد ۳ صفحه ۷۵ تا ۸۰ - مجموعه اشتہارات جلد اصفحه ۳۶۹ تا ۳۷۱ طبع بار دوم ) الحاشیہ۔اور نیز ہمارے الہام کو بھی جھوٹا کرے جس کی فکر میں وہ مر رہا ہے۔منہ