حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 313 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 313

حیات احمد ۳۱۳ جلد چهارم گے۔تو اس نے جواب دیا کہ جب اللہ چاہے گا۔غرض اس کے شوق کا اظہار کیا اس پر آپ نے حمامة البشری تصنیف کی اور فروری ۱۸۹۴ء میں اس کی اشاعت ہوئی۔جس میں آپ نے دعاؤں کو کھول کر ایسے لطیف اور موثر پیرایہ میں بیان کیا کہ اس کا اندازہ صرف حمامة البشرى کے پڑھنے سے ہوسکتا ہے۔اس کتاب کے آخر میں قریباً دوسو شعر کا ایک عربی قصیدہ لکھا۔جس میں عہد حاضرہ کے ان فتن کا ذکر ایسے مؤثر پیرایہ میں کیا ہے کہ اُسے پڑھ کر بے اختیار منہ سے نکل جاتا ہے۔مصلح باید که در هر جا مفاسد زاده اند اور حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح و ثناء میں تو وہ کچھ کہا گیا کہ اس کی نظیر نہیں ملتی۔آپ کے اس حسن و جمال کو بیان کیا ہے جو آپ کی قوت قدسی اور آپ کے عدیم النظیر کارناموں کے ذریعہ پہلی مرتبہ دنیا نے سنا۔یہ کتاب بلا دعر بیہ میں مفت ارسال کی گئی۔اتمام الحجة مولوی رسل بابا پر اسی سال مولوی غلام رسول صاحب عرف رسل با با کشمیری امام مسجد خان محمد شاه مرحوم امرتسر نے ایک کتاب حیات المسیح پر لکھی مولوی رسل بابا کو وہاں کے پرانے خیال کے کشمیری معتقدان نے مجبور کیا کہ آپ کوئی دلائل حیات مسیح پر پیش نہیں کرتے اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کشمیری جماعت احمدی ہو جائے گی چنانچہ یہ سلسلہ شروع ہوہی گیا تھا اس پر اس نے یہ کتاب گڑھا لکھی مگر اس کتاب کو دیکھ کر کہا جائے گا کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی۔دراصل ان کا علم تو ان کو شرمندہ کرتا تھا۔مگر وہ اپنی قیادت کی بقا کے لئے مجبور تھا کہ کچھ نہ کچھ لکھا جاوے چنانچہ اس نے اس کتاب میں مسیح کے زندہ بجسده العنصری آسمان پر جانے کے دلائل ( جن کو مغالطہ کہنا چاہیے ) لکھے اور حاشیہ۔ولدی شیخ محمود احمد جب مصر تعلیم و تبلیغ کے لئے گیا۔تو اس نے اسلامی دنیا اور قصر النخیل اخبار جاری کیا۔توحمامة البشری کو مصری ٹائپ میں چھپوا کر شائع کیا۔جَزَاهُ اللَّهُ اَحْسَنَ الْجَزَاءِ۔اور اس کتاب کے اثر نے اس کے ذریعہ ایک جماعت پیدا کر دی۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ (عرفانی الاسدی)