حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 301 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 301

حیات احمد جلد چهارم میں تھے اور مجھ سے محبت رکھتے تھے ) ذکر خیر کر کے اُذْكُرُوا مَوْتَاكُمْ بِالْخَيْرِ کے ثواب سے محروم نہ رہوں۔عیسائیت اور پادری عمادالدین پر آخری اتمام حجت پادری عمادالدین ن لانہر پانی پتی غم امرت سری کا ذکر اس کتاب میں متعدد مرتبہ آیا ہے۔اس نے براہین احمدیہ کے زمانہ میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پر فصاحت بلاغت کے تحت اعتراض کیا اور حضرت نے اس کا جواب ہی نہیں دیا۔اس کو مقابلہ کی دعوت دی اسے ہمت نہیں ہوئی عیسائیوں سے جب امرت سر میں مباحثہ ہوا تو اس نے ڈاکٹر کلارک کی درخواست کو ٹھکرا دیا۔۱۸۹۴ء کے شروع میں اس نے ایک کتاب تو زین الاقوال شائع کی جس میں قرآن مجید کی فصاحت و بلاغت پر حملہ کیا۔یہ کتاب اس نے آتھم کے مباحثہ میں عیسائیت کو شکست اور اسلام کی فتح سے متاثر ہو کر لکھی اِس سے اُس کے دو مقصد تھے ایک تو یہ کہ ڈاکٹر کلارک اور عبد اللہ آتھم کے کا حاشیہ۔میں چاہتا ہوں کہ پادری عمادالدین کی تصانیف کے متعلق ان کے عیسائی بھائی اور دوسرے مذاہب کے سلیم الفطرت لوگ جو رائے رکھتے تھے اسے یہاں درج کر دوں۔رائے ہند و پر کاش امرت سر و آفتاب پنجاب لاہور کہ ان دونوں اخباروں کے مالک اہلِ ہنود ہیں ! چونکہ پادری عمادالدین صاحب امرت سر میں پادری کا کام کرتے ہیں۔وہیں کے اخبار ہند و پر کاش جلد۴ نمبر ۴۰ مطبوعه ۱۳ / اکتوبر ۱۸۷۴ء صفحه ۱۰ والا میں جو امرت سر کے اہل ہنود کی طرف سے جاری ہے لکھا ہے کہ پادری عمادالدین کی تصنیفات تاریخ محمدی وغیرہ وغیرہ سے مراد ہدایت المسلمین) کچھ اس کتاب سے شورش انگیزی میں کمتر نہیں کہ جس نے بمبئی کے مسلمانوں اور پارسیوں کے صد ہا سالہ اتفاق اور محبت کو نفاق اور عداوت سے مبدل کر دیا۔اور دونوں کو یکلخت ہلاکت کا منہ دکھایا۔یہاں پادری صاحب کی تصانیف یعنی تاریخ محمدی اور ہدایت المسلمین اور تغییر مکاشفات امن عامہ کے خلل اندازی میں کس لئے ناکام رہیں۔پنجابی مسلمان کم ہمت اور اکثر جاہل ہیں۔اور ان کو سمجھتے ہیں۔اور صرف مسلمانوں کا انگریزی گورنمنٹ سے دل پھاڑنے کی علت غائی پر تصنیف کی گئی ہیں۔اگر بہ فرض محال وہ سارے الزامات سچے بھی سمجھے جائیں تا ہم بے چارے پادری صاحب کے کام تعزیرات ہند کی دفعہ ۴۹۴ کے اغراض سے محفوظ نہیں کیونکہ اس میں ہرا ایسے