حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 300 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 300

حیات احمد ۳۰۰ جلد چهارم حضرت سیٹھ عبدالرحمن صاحب کی بیعت حضرت سیٹھ عبدالرحمن حاجی اللہ رکھا سا جن اینڈ کو مدراس کے ایک ممتاز اور مشہور علم دوست اور اسلامی خدمات کا بے پناہ جوش رکھنے والے تاجر تھے۔حضرت اقدس کی شہرت اور تصنیفات نے ان کو کھینچا جیسا کہ حضرت مولوی حسن علی صاحب کے بیانات سے پایا جاتا ہے۔ان کو وہی لے کر آئے اور ۱۸۹۳ء کے شروع ہی میں داخل سلسلہ ہو گئے۔ان کی قربانیوں اور خدمات کا بیان میرا قلم نہیں کرسکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وہ خاص پیاروں اور فدائیوں میں تھے۔حضرت خود اپنے ہاتھ سے ان کو خط لکھتے اور خود پیکٹ تیار کر کے کتابیں روانہ فرماتے۔حضرت سیٹھ صاحب بالالتزام ایک سو روپیہ ماہوار بھیجتے رہے۔علاوہ ان رقومات اور چندوں کے جو غیر معمولی طور پر یا جماعتی نظام کے ماتحت دینے پڑتے تھے۔ان کے اخلاص اور تقویٰ کا یہ اثر تھا کہ جماعت کے بعض تاجروں میں بھی سلسلہ کی عظمت اور اس کے کام کی اہمیت کا اثر تھا اور وہ بھی بعض تحریکوں میں شامل ہونا سعادت سمجھتے تھے جب سیٹھ صاحب پر مدراس کے ایک بنک کے فیل ہو جانے کی وجہ سے ابتلا آیا تو انہوں نے نہایت استقلال سے صبر اور رضا بالقضا کا نمونہ دکھایا اور اس حالت میں بھی انہوں نے اپنے اس ماہواری عہد کو قرض لے کر بھی نبھایا۔ہر چند بعض اوقات حضرت نے منع فرمایا۔مگر انہوں نے مودبانہ اپنے اس عہد کو آخر تک نبھانے کی خواہش کی۔جب صدر انجمن احمدیہ کا قیام عمل میں آیا تو حضرت سیٹھ صاحب اس کے ٹرسٹی مقرر ہوئے اور آخر دن تک ٹرسٹی رہے۔خلافت ثانیہ کے آغاز میں جب بعض ٹرسٹیوں نے خلافت کا انکار کیا اور سیٹھ صاحب پر انہوں نے زور دیا تو بھی انہوں نے خلافت سے وابستہ رہنا ہی سعادت یقین کیا۔ان کی خدمات ان کا اخلاص ان کا کردار بہت کچھ لکھوانا چاہتا ہے۔اور خود حضرت نے اپنی تصانیف میں ان کی خوبیوں کا اظہار فرمایا ہے۔یہ ذکر ۱۸۹۴ء کے واقعات کے سلسلہ میں آگیا۔اور میں نے چاہا کہ اپنے ایک بزرگ اور مخلص بھائی کا (جو الحکم کے سر پرستوں