حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 302
حیات احمد جلد چهارم خلاف اس طرح پر عیسائیوں میں ناراضی پیدا کرے اور اسلام سے دشمنی تو اس کا مقصد ہی تھا۔اور حضرت اقدس کے ساتھ تو اس کی عداوت لازمی تھی کہ آپ کسر صلیب کے لئے آئے تھے۔اور وہ براہین کے زمانہ سے اس کی پردہ دری کر رہے تھے۔اس نے اس کتاب میں گورنمنٹ انگریزی کو بھی بھڑ کا یا تھا۔اور آپ کے وجود کو حکومت کے لئے خطرہ بتایا تھا۔تو زین الاقوال کیسے ملی؟ حضرت صاحبزادہ سراج الحق نعمانی لکھتے ہیں کہ۔کتاب نورالحق جو حضرت اقدس علیہ السلام نے لکھی ہے اس کے لکھنے کی یہ وجہ پیش آئی کہ ایک دفعہ میں سرسا وہ میں تھا کہ پادری عمادالدین امرتسری ہماری ملاقات کے لئے سرساوہ آیا اور تو زین الاقوال اور تعلیم محمدی اور دو ایک اپنی تصنیف لایا۔مجھے یہ کتا ہیں اسلامی رڈ میں دیکھ کر سخت رنج ہوا۔میں نے تو زین الا قوال کتاب مذکور پلندہ کر کے حضرت اقدس علیہ السلام کی خدمت میں بقیہ حاشیہ فعل کا رفاہ عام کی نیت سے ہونا مستقنے کے لئے مشروط ہے۔مندرجہ بالا فقرے ہم نے اخبار آفتاب پنجاب جلد۴ نمبر ۳۹ سے انتخاب کئے ہیں۔جس بنا پر اخبار مذکور کے اڈیٹر صاحب نے وہ تمام مضمون لکھا ہے۔ہم اس سے صرف مقتبس فقروں کی نسبت اپنا اتفاق ظاہر کرتے ہیں۔اور جو شکایت صاحب موصوف پادری عمادالدین کی تصنیفات کے بارہ میں کرتے ہیں۔بلحاظ ملکی مصلحتوں کے ہم اتنا زیادہ کہتے ہیں کہ اس کی تصانیف سے جس کا حوالہ اوپر درج ہے بلاشبہ امن میں خلل پڑ سکتا ہے۔اور وہ کچھ عجیب ڈھنگ سے مرتب ہوئے ہیں کہ جن کو فی الجملہ شرارت انگیز بلکہ شر خیز کہنا ذرا بھی غیر حق بات نہیں ایسے ایسے ملکی شور وشر کے حق میں جو اس قسم کی کتابوں سے پیدا ہوتا ہے بقول وقائع نگار موصوف کے سرکار کی طرف سے مناسب انتظام لابد ہے۔ہم بتلا سکتے ہیں کہ دانش مند گورنمنٹ نے اس طرح کے معاملات میں دخل دیا ہے۔چنانچہ اسی ہندوستان کے لارڈ ولزلے صاحب سابق گورنر جنرل نے ۱۷۹۸ء میں ہندوؤں کی رسم جل پر وا کو حکماً بند کر دیا اور ۱۸۳۷ء کے اندر لارڈ ولیم بیٹنک (William Bentinck) صاحب گورنر جنرل نے ستی کی قدیم رسم کو قانون مرتب کر کے موقوف کر وا دیا۔گورنمنٹ اس بات کو معلوم کر لے کہ کیوں ہندوستان کے مسیحی مصنفوں میں سے تمام لوگ پادری عمادالدین کو ہی انگشت نما کرتے ہیں۔اس کی یہ وجہ ہے کہ وہ بھی یہی چاہتا ہے کہ