حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 290 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 290

حیات احمد ۲۹۰ جلد چهارم میں اُس عالم مفسر قرآن سے ملا جو اپنی نظیر اس وقت سارے ہند کیا بلکہ دور دور تک نہیں رکھتا۔یعنی مولوی حکیم نورالدین صاحب سے ملاقات ہوئی میں ۱۸۸۷ء کے سفر پنجاب میں بھی حکیم صاحب ممدوح کی بڑی تعریفیں سن چکا تھا۔غرض حکیم صاحب نے انجمن کے جلسہ میں قرآن مجید کی چند آیتیں تلاوت کر کے ان کے معنے و مطالب کو بیان کرنا شروع کیا۔کیا کہوں اس بیان کا مجھ پر کیا اثر ہوا حکیم صاحب کا وعظ ختم ہوا اور میں نے کھڑے ہو کر اتنا کہا کہ مجھ کو فخر ہے کہ میں نے اپنی آنکھوں سے اتنے بڑے عالم اور مفسر کو دیکھا اور اہل اسلام کو جائے فخر ہے کہ ہمارے درمیان میں اس زمانہ میں ایک ایسا عالم موجود ہے۔جب رات کو میں اپنی قیام گاہ پر آیا۔وہاں ایک نامی لیکچرار صاحب بھی قیام پذیر تھے۔اُن کی ملاقات کو بہت سے حضرات جمع تھے حضرت مرزا غلام احمد صاحب کے بارے میں باتیں ہو رہی تھی۔موافقین اس جلسہ میں بہت کم تھے۔زیادہ مخالفین ہی تھے۔مخالفین نے بہت سے الزامات حضرت مرز اصاحب کی بارے میں پیش کئے مگر میں چپ چاپ سنتا رہا۔جب رات کو نماز کے لئے اٹھا میں نے دعا کی کہ خداوند مجھ کو معلوم نہیں ہوتا کہ مرزا صاحب کا دعویٰ کیا ہے۔اس میں آنکھ لگ گئی تو میں نے خواب دیکھا کہ ایک بزرگ تشریف لائے ہیں اور مجھ سے سوال کیا " کیا تم جناب مرزا غلام احمد صاحب کے بارے میں پوچھتے ہو۔“ میں نے کہا ”ہاں“ تو انہوں نے کہا ” توے کی روٹی کیا چھوٹی کیا موٹی اتنا سنا تھا کہ میری آنکھ کھل گئی۔صبح کو میں نے احباب سے تذکرہ کیا اور خواب کا حال سنایا۔مجھے کو اس خواب کی تعبیریں بتائی گئیں۔کسی نے کہا تمہاری روح کی بناوٹ اور جناب مرزا صاحب کی روح کی بناوٹ ایک ہی طرح کی ہے۔صرف درجہ کا فرق ہے۔ایک صاحب نے کہا کہ مرزا صاحب اور مخالفین مرزا صاحب دونوں مسلمان ہیں۔لوگ ناحق تکفیر کر رہے ہیں۔روٹی سے مراد مسلمان ہوتا ہے۔چھوٹا اور موٹا ہونا صرف فرق مراتب کا بتانا منظور ہے۔یہ تعبیر ایک بتائی گئی کہ حضرت عیسی علیہ السلام اور مثل عیسی دونوں ایک ہی ڈھنگ کے ہیں گویا ایک توے کی روٹی ہیں۔یعنی مرزا صاحب کا دعوی سچا ہے۔وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَاب