حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 291
حیات احمد ۲۹۱ جلد چهارم میری خواہش تھی کہ جناب مولوی حکیم نورالدین سے ملاقات کرتا۔لیکن مولوی صاحب از راه کرم خود اس خاکسار سے ملنے آئے۔میں نے ان سے تنہائی میں سوال کیا۔کہ مرزا صاحب سے جو آپ نے بیعت کی ہے اس میں کیا نفع دیکھا ہے۔جواب دیا کہ ایک گناہ تھا۔جس کو میں ترک نہیں کر سکتا تھا۔جناب مرزا صاحب سے بیعت کر لینے کے بعد وہ گناہ نہ صرف چھوٹ ہی گیا بلکہ اس سے نفرت ہوگئی۔جناب مولوی حکیم نورالدین صاحب کی اس بات کا مجھ پر ایک خاص اثر ہوا۔حکیم صاحب مجھ سے فرماتے رہے کہ قادیان چل لیکن میں نہ گیا۔“ قادیان میں آمد اور بیعت حضرت مولوی حسن علی صاحب اس سے پیشتر ۱۸۸۷ء میں قادیان آچکے تھے۔ان ایام میں مسٹر ویب نو مسلم کے مشن کے لئے اور انجمن حمایت الاسلام لاہور کی امداد کے لئے ایک دورہ کر رہے تھے۔چنانچہ وہ لکھتے ہیں۔جب میں امرتسر گیا تو ایک بزرگ کا نام سنا جو مرزا غلام احمد کہلاتے ہیں۔ضلع گورداسپور کے ایک گاؤں قادیان نامی میں رہتے ہیں۔اور عیسائیوں۔برہمو اور آریہ سماج والوں سے خوب مقابلہ کرتے ہیں۔چنانچہ انہوں نے ایک کتاب براہین احمدیہ نام بنائی ہے جس کا بڑا شہرہ ہے۔ان کا بہت بڑا دعویٰ یہ ہے کہ ان کو الہام ہوتا ہے۔مجھ کو یہ دعویٰ معلوم کر کے تعجب نہ ہوا گو میں ابھی تک اس الہام سے محروم ہوں جو نبی کے بعد محدث کو ہوتا رہا ہے۔لیکن میں اس بات کو بہت ہی عجیب نہیں سمجھتا تھا۔کہ علاوہ نبی کے بہت سے بندگان خدا ایسے گزرے ہیں جو شرف مکاملہ الہی سے ممتاز ہوا کئے ہیں۔غرض میرے دل میں جناب مرزا غلام احمد صاحب سے ملنے کی خواہش ہوئی امرت سر کے دو ایک دوست میرے ساتھ چلنے کو مستعد ہوئے۔ریل پر سوار ہوا بٹالہ پہنچا ایک دن بٹالہ میں رہا۔پھر بٹالہ سے یکے کی سواری ملتی ہے اس پر سوار ہوکر قادیان پہنچا۔مرزا صاحب مجھ سے بڑے تپاک اور محبت سے ملے۔مرزا صاحب کے مکان پر میرا وعظ ہوا۔