حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 289
حیات احمد ۲۸۹ جلد چهارم ۱۸۹۳ء کا خاتمہ ۱۸۹۴ء کا آغاز قادیان کا سالانہ جلسہ تو ملتوی ہو گیا تھا۔اور کچھ مخلص بھی جمع ہوگئے جیسا اوپر لکھ آیا ہوں۔مگر ۱۸۹۳ء کی شام ۱۸۹۴ء کی خوش گوار کامیابیوں کے آغاز کے ساتھ آئی۔۱۸۹۳ء کے انجمن حمایت اسلام کے جلسہ میں حضرت حکیم الامت کی ایک تقریر حویلی راجہ دھیان سنگھ میں ہوئی۔حضرت حکیم الامت ایک وجیہ اور سجیلے انسان تھے۔میں اس جلسہ میں موجود تھا حضرت حکیم الامت نے اللهُ نُورُ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ والے رکوع پر تقریر فرمائی۔تقریر کے ابتدائی فقرے نے حاضرین میں ایک مسرت اور انوکھے پن کی لہر پیدا کر دی مجھے وہ الفاظ ابھی تک یاد ہیں۔فرمایا ” یہاں کچھ ایسے لوگ ہیں جو مشرقی روایات کے پابند ہیں اور کچھ ایسے نوجوان ہیں جو مغربی تہذیب و تمدن کے دلدادہ نظر آتے ہیں۔میں جو کچھ کہنا چاہتا ہوں اس کے متعلق قرآن حکیم کہتا ہے لَا شَرْقِيَّةِ وَلَا غَرْبِيَّةِ " پس قرآن حکیم مشرق و مغرب اور ساری انسانیت کی فلاح کو لے کر آیا ہے۔“ حضرت مولوی حسن علی پر اثر اس تقریر کا عام اثر تو اس وقت کے منظر سے ہی معلوم ہوسکتا ہے۔مصور اور مورخ اس کو بیان نہیں کر سکتا مگر ہندوستان کے ایک مشہور مسلم مشنری جو اپنے اس عہد کا ایک ممتاز انسان سمجھا جاتا تھا۔اور فی الحقیقت اس نے تبلیغ اسلام کے لئے جو قربانی کی تھی وہ بے نظیر تھی۔اس قدر متاثر ہوا کہ آخر اس نے دنیا کی شہرتوں اور مقبول عام کی تمام مسرتوں پر لات ماردی اور سلسلہ احمدیہ میں شریک ہو گیا۔اس کا ذکر ان کے اپنے الفاظ میں پڑھیے۔۱۸۹۳ء میں انجمن حمایت اسلام کے جلسہ میں شریک ہونے کا مجھ کو اتفاق ہوا۔یہاں پر النور : ٣٦ النور : ٣٦