حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 279
حیات احمد جلد چهارم کس قدر بڑی غلطی کھائی جس کی وجہ سے آج تک وہ حدیثوں کو سخت نفرت کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔اگر چہ یہ تو سچ ہے کہ حدیثوں کا وہ حصہ جو تعامل قولی وفعلی کے سلسلہ سے باہر ہے اور قرآن سے تصدیق یافتہ نہیں یقین کامل کے مرتبہ پر مسلم نہیں ہوسکتا لیکن وہ دوسرا حصہ جو تعامل کے سلسلہ میں آگیا اور کروڑ ہا مخلوقات ابتدا سے اُس پر اپنے عملی طریق سے محافظ اور قائم چلی آئی ہے اس کو ظنی اور شنگی کیوں کر کہا جائے۔ایک دنیا کا مسلسل تعامل جو بیٹوں سے باپوں تک اور باپوں سے دادوں تک اور دادوں سے پڑ دا دوں تک بدیہی طور پر مشہور ہو گیا اور اپنے اصل مبدء تک اُس کے آثار اور انوار نظر آگئے اس میں تو ایک ذرّہ شک کی گنجائش نہیں رہ سکتی اور بغیر اس کے انسان کو کچھ بن نہیں پڑتا کہ ایسے مسلسل عمل درآمد کو اول درجہ کے قیات میں سے یقین کرے پھر جب کہ ائمہ حدیث نے اس سلسلہ تعامل کے ساتھ ایک اور سلسلہ قائم کیا اور امور تعاملی کا اسناد راست گو اور متدین راویوں کے ذریعہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دیا تو پھر بھی اس پر جرح کرنا درحقیقت ان لوگوں کا کام ہے جن کو بصیرت ایمانی اور عقل انسانی کا کچھ بھی حصہ نہیں ملا۔“ ۱۸۹۳ء کے سالانہ جلسہ کا التوا (شہادۃ القرآن ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۰۲ تا ۳۰۴) گزشتہ سال آپ نے سالانہ جلسہ کا قیام فرمایا تھا۔اور قرار دیا تھا کہ دسمبر کے آخری ایام ۲۶، ۲۷، ۲۸ کو یہ جلسہ ہوتا رہے گا۔مگر ۱۸۹۳ء کے جلسہ کے التوا کا آپ نے شہادۃ القرآن میں اعلان فرمایا۔اس جلسہ کے التوا سے آپ کی سیرت اور منجانب اللہ ہونے کا ثبوت ملتا ہے کہ آپ جماعت کو تقویٰ و طہارت کے اعلیٰ مقام پر لے جانا چاہتے تھے اور آپ کی غرض و غایت یہ نہ تھی کہ لوگ کثرت سے جلسہ پر جمع ہوں اور اپنے اعمال و اخلاق میں پاک تبدیلی نہ کریں۔چونکہ یہ