حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 280 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 280

حیات احمد ۲۸۰ جلد چهارم ہندوستان بھر میں پہلی قسم کا جلسہ تھا اور لوگ جو مختلف مشایخ کے عرس میں ایک میلہ کے طور پر جمع ہونے کے عادی ہو چکے تھے۔ان میں آپ ایک روحانی اور اخلاقی انقلاب پیدا کرنا چاہتے تھے۔اس لئے آپ کے پاس جب بعض اس قسم کی شکایات پہنچیں کہ بعض لوگوں نے اپنے آرام و آسائش کو دوسروں کی تکلیف پر مقدم کیا تو آپ نے اس وقت تک کے لئے التوا کا اعلان کر دیا جب تک کہ آنے والوں میں ایک پاک تبدیلی نہ ہو۔اور وہ خود تکلیف اٹھا کر دوسروں کو آرام پہنچانے کو اپنا فرض قرار نہ دیں۔سلسلہ کے ابتدائی ایام میں آپ نے جماعت کے ان افراد کی کمزوریوں پر چشم پوشی نہیں فرمائی بلکہ ڈانٹا اور یہی عمل ثابت کرتا ہے کہ آپ ایک متقی جماعت قائم کرنا چاہتے تھے۔میں اس اشتہار کے بعض اقتباسات یہاں دیتا ہوں تا کہ اس کتاب کو پڑھنے والے غور کریں کہ آپ کی بعثت کا کیا مقصد تھا۔ہم افسوس سے لکھتے ہیں کہ چند ایسے وجوہ ہم کو پیش آئے جنہوں نے ہماری رائے کو اس طرف مائل کیا کہ اب کی دفعہ اس جلسہ کو ملتوی رکھا جائے۔اور چونکہ بعض لوگ تعجب کریں گے کہ اس التوا کا موجب کیا ہے۔لہذا بطور اختصار کسی قدر ان وجوہ میں سے لکھا جاتا ہے۔اوّل یہ کہ اس جلسہ سے مدعا اور اصل مطلب یہ تھا کہ ہماری جماعت کے لوگ کسی طرح بار بار کی ملاقاتوں سے ایک ایسی تبدیلی اپنے اندر حاصل کر لیں کہ ان کے دل آخرت کی طرف بکلی جھک جائیں اور ان کے اندر خدا تعالیٰ کا خوف پیدا ہو۔اور وہ زہد اور تقویٰ اور خدا ترسی اور پرہیز گاری اور نرم دلی اور باہم محبت اور مؤاخات میں دوسروں کے لئے ایک نمونہ بن جائیں اور انکسار اور تواضع اور راست بازی ان میں پیدا ہو اور دینی مہمات کے لئے سرگرمی اختیار کریں لیکن اس پہلے جلسہ کے بعد ایسا اثر نہیں دیکھا گیا۔بلکہ خاص جلسہ کے دنوں میں ہی بعض کی شکایت سنی گئی کہ وہ اپنے بعض بھائیوں کی بدخوئی سے شاکی ہیں۔اور بعض اُس مجمع کثیر میں اپنے اپنے