حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 275
حیات احمد ۲۷۵ جلد چهارم میں پھیلی ہوئی معلوم ہوتی ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی جہالت نہیں ہوگی کہ اس کے تواتر سے انکار کیا جائے۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر اسلام کی وہ کتابیں جن کی رو سے یہ خبر سلسلہ وار شائع ہوتی چلی آئی ہے صدی وار مرتب کر کے اکٹھی کی جائیں تو ایسی کتابیں ہزار ہا سے کچھ کم نہیں ہوں گی۔ہاں یہ بات اس شخص کو سمجھانا مشکل ہے کہ جو اسلامی کتابوں سے بالکل بے خبر ہے اور درحقیقت ایسے اعتراض کرنے والے اپنی بدقسمتی کی وجہ سے کچھ ایسے بے خبر ہوتے ہیں کہ انہیں یہ بصیرت حاصل ہی نہیں ہوتی کہ فلاں واقعہ کس قدر قوت اور مضبوطی کے ساتھ اپنا ثبوت رکھتا ہے۔حدیث کا مقام پس ایسا ہی صاحب معترض نے کسی سے سن لیا ہے کہ احادیث اکثر احاد کے مرتبہ پر ہیں اور اس سے بلا توقف یہ نتیجہ پیدا کیا کہ بجز قرآن کریم کے اور جس قدر مسلّمات اسلام ہیں وہ سب کے سب بے بنیاد شکوک ہیں جن کو یقین اور قطعیت میں سے کچھ حصہ نہیں۔لیکن در حقیقت یہ ایک بڑا بھاری دھوکہ ہے جس کا پہلا اثر دین اور ایمان کا تباہ ہونا ہے کیونکہ اگر یہی بات سچ ہے کہ اہلِ اسلام کے پاس بجز قرآن کریم کے جس قدر اور منقولات ہیں وہ تمام ذخیرہ کذب اور جھوٹ اور افترا اور ظنون اور اوہام کا ہے تو پھر شاید اسلام میں سے کچھ تھوڑا ہی حصہ باقی رہ جائے گا وجہ یہ کہ ہمیں اپنے دین کی تمام تفصیلات احادیث نبویہ کے ذریعہ سے ملی ہیں۔مثلاً یہ نماز جو پنج وقت ہم پڑھتے ہیں۔گو قرآن مجید سے اس کی فرضیت ثابت ہوتی ہے۔مگر یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ صبح کی دو رکعت فرض اور دو رکعت سنت ہیں اور پھر ظہر کی چار رکعت فرض اور چار اور دوسنت اور مغرب کی تین رکعت فرض اور پھر عشاء کی چار۔ایسا ہی زکوۃ کی تفاصیل معلوم کرنے کے لئے ہم بالکل احادیث کے محتاج ہیں۔اسی طرح