حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 274
حیات احمد ۲۷۴ (۱) مسیح موعود کی پیشگوئی مسلّمہ متفقہ ہے جلد چهارم ”سواول ہم ان ہر سہ تنقیحوں میں سے پہلی تنقیح کو بیان کرتے ہیں سو واضح ہو کہ اس امر سے دنیا میں کسی کو بھی انکار نہیں کہ احادیث میں مسیح موعود کی کھلی کھلی پیشگوئی موجود ہے بلکہ قریباً تمام مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ احادیث کی رو سے ضرور ایک شخص آنے والا ہے جس کا نام عیسی بن مریم ہوگا اور یہ پیش گوئی بخاری اور مسلم اور ترمذی وغیرہ کتب حدیث میں اس کثرت سے پائی جاتی ہے جو ایک منصف مزاج کی تسلی کے لئے کافی ہے اور بالضرورت اس قدر مشترک پر ایمان لانا پڑتا ہے کہ ایک مسیح موعود آنے والا ہے۔اگر چہ یہ سچ ہے کہ اکثر ہر یک حدیث اپنی ذات میں مرتبہ احاد سے زیادہ نہیں مگر اس میں کچھ بھی کلام نہیں کہ جس قدر طرق متفرقہ کی رو سے احادیث نبویہ اس بارے میں مدون ہو چکی ہے ان سب کو یکجائی نظر کے ساتھ دیکھنے سے بلاشبہ اس قدر قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ ضرور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح موعود کے آنے کی خبر دی ہے اور پھر جب ہم ان احادیث کے ساتھ جو اہل سنت و جماعت کے ہاتھ میں ہیں ان احادیث کو بھی ملاتے ہیں جو دوسرے فرقہ اسلام کے مثلاً شیعہ وغیرہ اُن پر بھروسہ رکھتے ہیں تو اور بھی اس تواتر کی قوت اور طاقت ثابت ہوتی ہے۔اور پھر اس کے ساتھ جب صدہا کتا بیں متصوفین کی دیکھی جاتی ہیں تو وہ بھی اسی کی شہادت دے رہی ہیں۔پھر بعد اس کے جب ہم بیرونی طور پر اہل کتاب یعنی نصاری کی کتابیں دیکھتے ہیں تو یہ خبر اُن سے بھی ملتی ہے اور ساتھ ہی حضرت مسیح کے اس فیصلہ سے جو ایلیا کے آسمان سے نازل ہونے کے بارہ میں ہے یہ بھی انجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کی خبریں کبھی حقیقت پر محمول نہیں ہوتیں لیکن یہ خبر مسیح موعود کے آنے کی اس قدر زور کے ساتھ ہر ایک زمانہ