حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 259 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 259

حیات احمد ۲۵۹ جلد چهارم منظور نہیں ہوگی بلکہ وہی تفسیر لائق منظوری ہوگی جس میں حقائق و معارف جدیدہ ہوں بشر طیکہ کتاب اللہ اور فرمودۂ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مخالف نہ ہوں۔۔۔۔بالآخر یہ بھی یادر ہے کہ یہ قصائد اور یہ تفسیر کسی غرض خود نمائی اور خودستائی سے نہیں لکھی گئی بلکہ محض اس غرض سے کہ تا میاں بطالوی اور اُن کے ہم خیال لوگوں کی نسبت منصف لوگوں پر یہ ظاہر ہو کہ وہ اپنے اس اصرار میں کہ یہ عاجز مفتری اور دقبال اور ساتھ اس کے بالکل علم ادب سے بے بہرہ اور قرآن کریم کے حقائق و معارف سے بے نصیب ہے اور وہ لوگ بڑے اعلیٰ درجہ کے عالم فاضل ہیں۔کس قدر کا ذب اور درغ گو اور دین اور دیانت سے دور ہیں اگر میاں بطالوی اپنے ان بیانات اور ہذیانات میں جو اس نے اس عاجز کے نادان اور جاہل اور مفتری ہونے کے بارہ میں اپنے اشاعۃ السنۃ میں شائع کئے ہیں دیانت دار اور راست گو ہے تو کچھ شک نہیں کہ اب بلا حجت و حیلہ ان قصائد و تفسیر کے مقابلہ پر اپنی طرف سے اسی قدر اور تعداد اشعار کے لحاظ سے چار قصیدے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف میں اور نیز سورہ فاتحہ کی تفسیر بھی شائع کرے گا۔تاسیہ روئے شود ہر کہ دروغش باشد۔اور ایسا ہی وہ تمام مولوی جن کے سر میں تکبر کا کیڑا ہے اور جو اس عاجز کو باوجود بار بار اظہار ایمان کے کافر اور مرتد خیال کرتے ہیں اور اپنے تئیں کچھ چیز سمجھتے ہیں اس مقابلہ کے لئے مدعو ہیں۔چاہے وہ دہلی میں رہتے ہوں۔جیسا کہ میاں شیخ الکل اور یا لکھو کے میں جیسا کہ میاں محی الدین بن مولوی محمد صاحب اور یالا ہور میں یا کسی اور شہر میں رہتے ہوں اور اب ان کی شرم وحیا کا تقاضا یہی ہے کہ مقابلہ کریں اور ہزار روپیہ لیویں۔ان کو اختیار ہے کہ بالمقابل جو ہر علمی دکھلانے کے وقت ہماری غلطیاں نکالیں ہماری صرف ونحو کی آزمائش کریں اور ایسا ہی اپنی بھی آزمائش کراویں لیکن یہ بات بے حیائی میں داخل ہے کہ بغیر اس کے جو ہمارے مقابل پر اپنا بھی جو ہر