حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 260
حیات احمد ۲۶۰ جلد چهارم دکھلاویں یکطرفہ طور را ستاد بن بیٹھیں۔ناظرین غور سے دیکھیں کہ اس بزرگ کی عربیت کی حقیقت کھولنے کے لئے اس عاجز نے پہلے اس سے اپنے اشتہار میں لکھا تھا۔کہ شیخ مذکور میرے مقابل پر ایک تفسیر کسی سورت قرآن کریم کی بلیغ و فصیح عبارت میں لکھے اور نیز سوشعر کا ایک قصیدہ بھی میرے مقابل پر بیٹھ کر تحریر کرے اگر شیخ مذکور کو عربیت میں کچھ بھی دخل ہوتا تو وہ بڑی خوشی سے میرے مقابلہ میں آتا۔اور پہلو بہ پہلو بیٹھ کر اپنی عربی دانی کی لیاقت دکھلاتا۔لیکن اس کے اشاعۃ السنہ نمبر ۸ جلد ۱۵ کوصفحہ۱۹۰ سے ۱۹۲ تک بغور پڑھنا چاہیے کہ کیوں کر اس نے رکیک شرطوں سے اپنا پیچھا چھوڑایا ہے چنانچہ ان صفحات میں لکھا ہے کہ اس مقابلہ سے پہلے کتاب دافع الوساوس کی عبارت کی غلطیاں ثابت کریں گے اور نیز کتاب فتح اسلام اور توضیح مرام کے کلمات کفر و الحاد پیش کریں گے اور نیز ان پچاسی سوالات کا جواب طلب کریں گے جو مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کی موت کی نسبت مراسلت نمبر ۲۰ مورخه ۹ جنوری ۱۸۹۳ء میں ہم لکھ چکے ہیں۔اور یہ بھی سوال کریں گے کہ کیا تم نجوم نہیں جانتے اور کیا تم رمل اور جفر اور مسمریزم سے واقف نہیں ہو اور پھر جوابات کے جواب الجواب کا جواب پوچھا جائے گا اور اسی طرح سلسلہ وار جواب الجواب ہوتے جائیں گے اور پھر یہ پوچھا جائے گا کہ بالمقابل عربی میں تفسیر لکھنے کو اپنے ملہم اور مؤید ہونے پر دلیل بتلاویں یعنی عربی دانی سے ملہم ہونا کیونکر ثابت ہوگا۔اور پھر کوئی دلیل اپنے الہامی اور موید من اللہ ہونے کی پیش کریں۔پھر جب اِن سوالات سے عہدہ برا ہو گئے تو پھر تفسیر عربی اور نیز قصیدہ نعتیہ میں مقابلہ کیا جائے گا ورنہ نہیں۔اب اے ناظرین اللہ خود ان تینوں صفحوں ۱۹۰۔۱۹۱ اور ۱۹۲ اشاعۃ السنہ مذکور کوغور سے پڑھو اور دیکھو کہ کیا یہ جواب اور ایسے طرز کی حیلہ سازیاں ایسے شخص کی طرف سے