حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 258
حیات احمد ۲۵۸ جلد چهارم اور ثابت ہو جائے گا کہ اس بیان میں یہ لوگ کا ذب ہیں یا صادق اور چونکہ ان لوگوں کے دلوں میں دیانت اور خدا ترسی نہیں اس لئے اب میں نہیں چاہتا کہ بار بار ان کی طرف توجہ کروں۔اور اگر چہ میں ایک صریح کشف کے رُو سے ایسے متعصب اور سج دل لوگوں کے ساتھ مباحثات کرنے سے روکا گیا ہوں۔جس کا ذکر میری کتاب آئینہ کمالات اسلام میں چھپ چکا ہے لیکن یہ مقابلہ نشان نمائی کے طور پر ہے اور بلحاظ تورع و تقویٰ آئندہ یہ بھی عہد کرتا ہوں کہ اگر اب میاں محمد حسین بطالوی یا کسی دوسرے مولوی نے بغیر کسی حیلہ وحجت کے میرے ان قصائد اور تفسیر کے مقابل پر عرصہ ایک ماہ تک اپنے قصائد اور تفسیر شائع نہ کی تو پھر ہمیشہ کے لئے اس قوم سے اعراض کروں گا۔اور اگر اس رسالہ کے مقابل پر میاں بطالوی یا کسی اور ان کے ہم مشرب نے سیدھی نیت سے اپنے طرف سے قصائد اور تفسیر سورہ فاتحہ تالیف کر کے بصورت رسالہ شائع کر دی تو میں سچے دل سے وعدہ کرتا ہوں کہ اگر ثالثوں کی شہادت سے یہ ثابت ہو جائے کہ ان کے قصائد اور ان کی تفسیر جو سورہ فاتحہ کے دقائق اور حقائق کے متعلق ہوگی میرے قصائد اور میری تفسیر سے جو اسی سورہ مبارکہ کے اسرار لطیفہ کے بارہ میں ہے ہر پہلو سے بڑھ کر ہے تو میں ہزار روپیہ نقدان میں سے ایسے شخص کو دوں گا جو روز اشاعت سے ایک ماہ کے اندر ایسے قصائد اور ایسی تفسیر بصورت رسالہ شائع کرے اور نیز یہ بھی اقرار کرتا ہوں کہ بعد بالمقابل قصائد اور تفسیر شائع کرنے کے اگر ان کے قصائد اور ان کی تفسیر نحوی وصرفی اور علم بلاغت کی غلطیوں سے مبرا نکلے اور میرے قصائد اور تفسیر سے بڑھ کر نکلے تو پھر باوصف اپنے اس کمال کے اگر میرے قصائد اور تفسیر بالمقابل کے کوئی غلطی نکالیں گے تو فی غلطی پانچ روپیہ انعام بھی دوں گا۔مگر یادر ہے کہ نکتہ چینی آسان ہے۔ایک جاہل بھی کر سکتا ہے مگر نکتہ نمائی مشکل۔تفسیر لکھنے کے وقت یہ یاد رہے کہ کسی دوسرے شخص کی تفسیر کی نقل کرنا