حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 251
حیات احمد ۲۵۱ جلد چهارم اہلِ زبان پر روشن ہو سکتا ہے جس کو پیش کر کے ہم ہر یک ملک کے آدمی کو خواہ ہندی ہو یا پارسی یا یوروپین یا امریکن یا کسی اور ملک کا ہوملزم وساکت ولا جواب کر سکتے ہیں۔وہ غیر محدود معارف و حقائق وعلوم حکمیہ قرآنیہ ہیں جو ہر زمانہ میں اس زمانہ کے موافق کھلتے جاتے ہیں اور ہر یک زمانہ کے خیالات کو مقابلہ کرنے کے لئے مسلح سپاہیوں کی طرح کھڑے ہیں اگر قرآن شریف اپنے حقائق و دقائق کے لحاظ سے ایک محدود چیز ہوتی تو ہرگز وہ معجزہ تامہ نہیں ٹھہر سکتا تھا۔فقط بلاغت و فصاحت ایسا امر نہیں ہے جس کی اعجازی کیفیت ہر یک خواندہ نا خواندہ کو معلوم ہو جائے کھلا کھلا اعجاز اس کا تو یہی ہے کہ وہ غیر محدود معارف و حقائق اپنے اندر رکھتا ہے۔جو شخص قرآن شریف کے اس اعجاز کو نہیں مانتا۔وہ علم قرآن سے سخت بے نصیب ہے۔وَمَن لَّمْ يُؤْمِنْ بِذَالِكَ الْإِعْجَازِ فَوَاللَّهِ مَا قَدَرَ الْقُرْآنَ حَقَّ قَدْرِهِ وَمَا عَرَفَ اللَّهَ حَقَّ مَعْرِفَتِهِ وَمَا وَقَرَ الرَّسُوْلَ حَقَّ تَوْقِيْرِهِ - اے بندگانِ خدا! یقیناً یاد رکھو کہ قرآن شریف میں غیر محدود معارف و حقائق کا اعجاز ایسا کامل اعجاز ہے کہ جس نے ہر ایک زمانہ میں تلوار سے زیادہ کام کیا ہے اور ہر ایک زمانہ اپنی نئی حالت کے ساتھ جو کچھ شبہات پیش کرتا ہے یا جس قسم کے اعلیٰ معارف کا دعویٰ کرتا ہے اس کی پوری مدافعت اور پورا الزام اور پورا پورا مقابلہ قرآن شریف میں موجود ہے۔کوئی شخص بر ہمو ہو یا بدھ مذہب والا یا آریہ یا کسی اور رنگ کا فلسفی کوئی ایسی الہی صداقت نکال نہیں سکتا جو قرآن شریف میں پہلے سے موجود نہ ہو۔قرآن شریف کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہو سکتے اور جس طرح صحیفہ ء فطرت کے عجائب وغرائب خواص کسی پہلے زمانہ تک ختم نہیں ہو چکے بلکہ جدید در جدید پیدا ہوتے جاتے ہیں یہی حال ان صحتِ مطہرہ کا ہے تا خدا تعالیٰ کے قول اور فعل میں مطابقت ثابت ہو اور میں اس سے پہلے لکھ چکا ہوں کہ قرآن شریف کے عجائبات اکثر بذریعہ الہام