حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 250 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 250

حیات احمد ۲۵۰ جلد چهارم آپ نے ظہر کی نماز میں فرمایا۔آج جلسہ مباحثہ سے واپس آنے کے بعد قریب ایک بجے دن کے حضرت اقدس کو اس مباحثہ کی فتح پر بشارت بخش الہام ہوا۔هَنَّاكَ الله یعنی اللہ تعالیٰ تجھے مبارک باد دیتا ہے۔اس الہام کے سنے پر تمام حاضرین مجلس پر ایک خاص اثر ہوا اس لئے کہ وہ اپنی آنکھوں سے اُس تائید اور نصرت ربانی کے نظارے دیکھ چکے تھے جو دوران مباحثہ میں مشاہدہ ہوئے اور آج اس کامیابی پر اللہ تعالیٰ کی تبریک نے مہر صداقت ثبت کر دی۔(۲) عربی تفسیر نویسی کی دعوت تجدید قارئین کرام اسی کتاب کی پہلی جلد میں اور اس جلد میں پڑھ آئے ہیں کہ آپ نے منکرین و مکفرین کے ہر اس حربہ کا جواب قرآن کریم کے معیار صدق پر دیا۔جب کفر کا فتویٰ دیا گیا تو آپ نے آسمانی فیصلہ کے ذریعہ ان نشانات سے مقابلہ کی دعوت دی جو قرآن کریم نے مومنین متقین کے لئے مقرر کئے ہیں اور ان معیار صدق میں آپ نے ہمیشہ اپنے دعوی کے شروع سے اعلان کیا کہ قرآن کریم کے حقائق و معارف کا مجھ کو ایک خاص نشان دیا گیا ہے اور اس امر کا اظہار قرآن مجید کی ایک اعجازی کیفیت آپ نے اس علم و معرفت کی بنا پر کیا جو اللہ نے آپ کو دیا تھا اور وہ یہ کہ قرآن مجید کے حقائق و معارف غیر محدود ہیں۔اس کے عجائبات کبھی ختم نہیں ہوتے اور یہی وہ امر ہے جو قرآن مجید کو ایک سدا بہار اور زندہ کتاب ثابت کرتا ہے۔چنانچہ آپ نے ۱۸۹۱ء میں ازالہ اوہام کے تصنیف کے وقت لکھا۔وو جاننا چاہیے کہ کھلا کھلا اعجاز قرآن شریف کا جو ہر ایک قوم اور ہر ایک