حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 242 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 242

حیات احمد ۲۴۲ جلد چهارم ان کے فرار کر جانے کا چرچہ پھیل گیا۔خواجہ یوسف شاہ اور دیگر معزز لوگوں نے بہت زور لگایا۔خود انسپکٹر صاحب پولیس نے بار بار جا کے کہا مگر خدا کی قدرت کا ایسا رعب چھایا کہ آپ مقابلہ پر نہ آئے۔آخر کار حضرت مقدس عبد الحق غزنوی کے ساتھ مباہلہ کرنے کو کھڑے ہو گئے۔سب مرتدین اور دیگر انبوہ خلایق صف بستہ پیچھے کھڑے ہو گئے۔جس وقت حضرت اقدس نے بلند آواز سے اللہ تعالیٰ کی جناب کو مخاطب کر کے وہ دردناک الفاظ بولے تو میدان سے یک بیک درد ناک چیخوں کی آواز میں نکلنی شروع ہوئیں بے اختیار ہو ہو کر لوگ ڈھار میں مارتے تھے۔تین بار آپ نے ان دردناک الفاظ کا بلند آواز سے تکرار کیا۔اور ہر بار میدان محشر کا نمونہ دکھائی دیا۔کئی آدمی غش کھا کر گر پڑے کئی ہند و صاحبان بھی موجود تھے۔ایک عیسائی صاحب نے ذکر کیا کہ ایک ہند و صاحب میرے پاس کھڑے تھے اور وہ بھی روتے تھے۔غرضیکہ یہ ایک ایسا دردناک سماں تھا کہ شاید یہ نظارہ ہندوستان یا پنجاب میں اس سے پہلے کم کسی کو دیکھنے کا اتفاق ہوا ہوگا۔عیسائی صاحبان نے ہم سے خود بیان کیا کہ تم لوگوں کی حالت زار کو دیکھ کر ہمارے دل بھی بیقرار ہو گئے تھے اس کے بعد حضرت مقدس نے کھڑے ہو کر عام مجمع میں اپنے ایمان اور اعتقادات اسلامیہ کا اقرار کیا۔آپ کی اس تقریر کا ایسا اثر ہوا کہ منشی محمد یعقوب صاحب سابق اور سیر محکمہ نہر حال مقیم امرتسر ایک درد ناک چیخ مار کر ہاتھ پھیلائے ہوئے حضرت مقدس کے قدموں پر آگرے چونکہ پہلے یہ سخت مخالف تھے تو بہ کی اور اسی مجمع عام میں بیعت کر لی اور پکار کر سب لوگوں کے سامنے اقرار کیا کہ میری توبہ کے گواہ رہنا۔میں مرزا صاحب کو سچا، خدا کا بندہ اور نیک بزرگ وصادق مسلمان سمجھتا ہوں یہ بے شک نیک بخت، بندے خدا کے اور امت محمدیہ علیہ الصلوۃ والسلام سے برگزیدہ ہیں عام باشندگان امرت سر پر مولوی بٹالوی کے قرار داد۔اسی وقت حضرت مرزا صاحب کی ایسی فوری تأثیر کا یہ اثر پڑا کہ شیخ بٹالوی صاحب سے لوگ بدظن ہو گئے اور حضرت مرزا صاحب کے ساتھ حسن عقیدت سے پیش آنے لگے اس کے بعد چونکہ وقت بہت گزر گیا تھا۔انسپکٹر پولیس نے مرزا صاحب کو تشریف لے جانے کے واسطے کہا اور بٹالوی کو بھی جو حیرانی اور