حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 243 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 243

حیات احمد ۲۴۳ جلد چهارم سراسیمگی کی حالت میں ممبر پر چڑھ کر ہاتھ پاؤں مار رہے تھے نیچے اتر کر چلے جانے پر مجبور کیا۔اور مباہلہ طے ہوا اور ہمیشہ کے واسطے مباہلہ سے فراری کا الزام بٹالوی صاحب پر قائم ہو گیا چونکہ وہ میدان مباہلہ میں موجود ہی تھے۔وہ یقیناً خدا کی لعنت کے عذاب سے حصہ لے لیں گے۔اور انہیں اور ان کے حمایتیوں کو معلوم ہو جائے گا کہ کسی صادق راستباز کی مخالفت کا یہ ثمرہ ہوتا ہے اور فی الحال مباحثہ سے فراری کی۔۔۔تو ہر گئی۔اس کے بعد بٹالوی نے ہر چند کوشش کی کہ کسی طرح ان کو شہر امرتسر میں مسجد خیر الدین صاحب مرحوم میں کسی جگہ وعظ کرنے کا موقع مل جائے۔مگر ان کی اس خواہش کو بہت حقارت سے رڈ کیا گیا اور رؤساء اور عام شہر کے رُخ توجہ کو پھرا ہوا دیکھ کر بٹالوی صاحب کس مپرسی کی حالت میں امرت سر سے کوچ کر گئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔اب ہمارا امرت سر کے سفر کا خاتمہ ہے۔جو کچھ دیکھا تھا۔وہ احباب کو بھی دکھا دیا۔امید ہے کہ صادق دل احباب اس عاجز کی اس تحریر سے محظوظ ہوں گے۔اور دعائے خیر سے یاد کریں گے۔فقط والسلام خاکسار حامد سیالکوٹ قیام امرتسر کے متعلق کچھ متفرق باتیں امرتسر کے اس قیام کے دوران میں بعض اور امور اور واقعات جو پیش آئے ان کا مختصر ذکر کر دینا بھی ضروری ہے۔(۱) سلسلہ میں نو مبایعین جب حضرت اقدس، جناب حاجی محمود مغفور کی درخواست پر آپ ہال بازار کے تنگ اور مختصر مکان سے اٹھ کر ان کے مکان میں ( جو قیصرہ باغ جس میں ملکہ کا بت تھا ) اٹھ آئے تو لوگوں کی آمد و رفت بہت بڑھ گئی۔مباحثہ کے بعد کے اوقات میں لوگ آموجود ہوتے اور حضرت سے