حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 241
حیات احمد ۲۴۱ جلد چهارم کر دیں زیادہ اونچی بولنے سے آواز اور بھی مکروہ ہوگئی۔عام لوگوں کو بھی یہ امر بہت ناگوار گزرا کہ آئے کس غرض کے واسطے تھے اور کرتے کیا ہیں بہت سے لوگ اس عام مجمع میں ان کی اس بیجا حرکت پر ملامت کا ووٹ پاس کرتے تھے۔آخر کار خواجہ یوسف شاہ صاحب حضرت اقدس مرزا صاحب کی خدمت میں انبوہ خلائق کو چیرتے ہوئے آگے آئے اور کہا کہ مولوی محمد حسین صاحب کہتے ہیں کہ آپ اس طرح دعا کریں کہ الہی میں نے جو اپنی کتابوں میں نبوت کا دعویٰ کیا ہے ملائکہ سے انکار کیا ہے معراج سے انکار کیا ہے۔اگر ان سب کفریات میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر لعنت بھیج اس بات کو سن کر سب لوگ ہنس پڑے اور خود خواجہ صاحب بھی مسکرائے۔حضرت اقدس مرزا صاحب نے فرمایا کہ آپ ہی سوچتے کہ میں تو اپنے آپ کو اُمتِ محمدیہ کا ایک مسلمان سمجھتا ہوں اور ایسی باتوں کا منہ پر لانا خود کفر جانتا ہوں پھر یہ کیسے کہوں بڑے افسوس کی بات ہے کہ شیخ صاحب جب اپنے خط کے ذریعہ سے جو اس وقت ان کے ہاتھ کا لکھا ہوا میرے پاس موجود ہے۔جن الفاظ کو کہنا خود منظور کر چکے ہیں اب انہیں پر کیوں مباہلہ نہیں کرتے۔یہ کہہ کر حضرت مقدس وہ خط خواجہ صاحب کے ہاتھ میں دیدیا کہ یہ انہیں کی تحریر آپ ان کو دکھا ئیں اور چونکہ وقت گزرتا جاتا ہے اس مباہلہ پر آمادہ کریں شیخ عبدالعزیز صاحب شاگرد شیخ بٹالوی صاحب بھی خواجہ صاحب کے شاید ساتھ تھے اور وہ خط انہوں نے بھی دیکھا۔اور کہا کہ یہاں تو صاف لکھا ہے اور منشی غلام قادر صاحب فصیح کو ساتھ لے کر مع خواجہ صاحب کے شیخ بٹالوی کے پاس گئے مگر باوجود ایسے اقرار صاف کے پھر بھی مباہلہ کی طرف شیخ صاحب نے رخ نہ کیا۔حضرت مقدس جناب مرزا صاحب نے صاف کہدیا کہ ہم یوں کہہ دیں گے کہ اے اللہ تعالیٰ جو کچھ میں نے کتابوں میں لکھا ہے اگر اس سے میرا نبوت کا دعوی ہے یا ملائکہ سے انکار ہے یا معراج سے انکار ہے اور تیری اور تیرے پیارے رسول کی مرضی کے برخلاف ہے تو مجھ پر ایسی لعنت بھیج کہ کسی کا فر ملعون دجال پر پہلے نہ بھیجی ہو جو حضرت مقدس کی تحریر کا بھی منشا تھا۔اور اسی پر شیخ نے مباہلہ کا ہونا منظور بھی کر لیا تھا۔مگر جب عین میدان مباہلہ میں آن کر منکر ہو گئے اور اپنی تحریر کی کچھ پرواہ نہ کی تو عام لوگوں میں