حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 236 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 236

حیات احمد ۲۳۶ جلد چهارم اتمام حجت اگر شیخ محمد حسین بٹالوی دہم ذی قعدہ ۱۳۱۰ھ کو مباہلہ کے لئے حاضر نہ ہوا تو اسی روز سے سمجھا جائے گا کہ وہ پیشگوئی جو اس کے حق میں چھپوائی گئی تھی کہ وہ کافر کہنے سے تو بہ کرے گا پوری ہوگئی۔بالآخر میں دعا کرتا ہوں کہ اے خداوند قدیر اس ظالم اور سرکش اور فتان پر لعنت کر اور ذلت کی مار اس پر ڈال جو اب اس دعوت مباہلہ اور تقرری شہر اور مقام اور وقت کے بعد مباہلہ کے لئے میرے مقابل پر میدان میں نہ آوے اور کافر کافر کہنے اور سب وشتم سے باز نہ آوے۔آمین ثم آمین يَا أَيُّهَا الْمُكَفِّرُوْنَ تَعَالَوْا إِلَى أَمْرِهُوَ سُنَّةُ اللَّهِ وَنَبِيِّهِ لَا فَحَامِ الْكَفِرِيْنَ الْمُكَذِّبِيْنَ فَإِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاعْلَمُوْا أَنَّ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْمُكَفِّرِيْنَ الَّذِيْنَ اِسْتَبَانَ تَخَلَّفُهُمْ وَشَهِدَ تَخَوُّفُهُمْ أَنَّهُمْ كَانُوْا كَاذِبِيْنَ۔یوم مباہلہ المشتــ هـ مرزا غلام احمد قادیانی تبلیغ رسالت جلد ۳ صفحه ۵۵ - مجموعه اشتہارات جلد اصفحه۳۵۰ طبع بار دوم ) جیسا کہ قارئین کرام اوپر پڑھ آئے ہیں حضرت اقدس نے ۱۰ رذی قعدہ ۱۳۱۰ھ یوم شنبه مباہلہ کے لئے مقرر کر دیا تھا۔چونکہ یہ ہندوستان کی تاریخ میں پہلا واقعہ تھا۔ہر مذہب کے لوگ کثیر تعداد میں اس مقابلہ روحانی کے نظارہ کے لئے جمع ہو گئے تھے حضرت اقدس اپنی جماعت کو لے کر سب سے پہلے میدان مبابله (عید گاہ متصل مسجد خان بہادر حاجی محمد شاہ صاحب) میں پہنچ گئے تھے۔