حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 235
حیات احمد ۲۳۵ جلد چهارم جَلَّ شَانُہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سمجھتے ہیں اور اس عاجز کی کتابوں کو مجموعہ کفریات خیال کرتے ہیں اور اس طرف یہ عاجز نہ صرف اپنے تئیں مسلمان جانتا ہے بلکہ اپنے وجود کو اللہ اور رسول کی راہ میں فدا کئے بیٹھا ہے لہذا ان لوگوں کی درخواست پر یہ مباہلہ تاریخ مذکورہ بالا میں قرار پایا ہے مگر میں چاہتا ہوں کہ مباہلہ کی بددعا کرنے کے وقت بعض اور مسلمان بھی حاضر ہو جائیں کیونکہ میں یہ دعا کروں گا کہ جس قدر میری تالیفات ہیں ان میں سے کوئی بھی خدا اور رسول کے فرمودہ کے مخالف نہیں ہیں اور نہ میں کافر ہوں اور اگر میری کتابیں خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودہ سے مخالف اور کفر سے بھری ہوئی ہیں تو خدا تعالیٰ وہ لعنت اور عذاب مجھ پر نازل کرے جو ابتدائے دنیا سے آج تک کسی کا فر بے ایمان پر نہ کی ہو۔اور آپ لوگ آمین کہیں۔کیونکہ اگر میں کافر ہوں اور نعوذ باللہ دین اسلام سے مرتد اور بے ایمان تو نہایت بُرے عذاب سے میرا مرنا ہی بہتر ہے۔اور میں ایسی زندگی سے بہزار دل بیزار ہوں۔اور اگر ایسا نہیں تو خدا تعالیٰ اپنی طرف سے سچا فیصلہ کر دے گا۔وہ میرے دل کو بھی دیکھ رہا ہے اور میرے مخالفوں کے دل کو بھی۔بڑے ثواب کی بات ہوگی اگر آپ صاحبان کل دہم ذیقعدہ کو دو بجے کے وقت عیدگاہ میں مباہلہ آمین کہنے کے لئے تشریف لائیں۔والسلام خاکسار غلام احمد قادیانی تبلیغ رسالت جلد ۳ صفحه ۵۴٬۵۳- مجموعه اشتہارات جلد اصفحه ۳۴۹ طبع بار دوم )