حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 237 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 237

حیات احمد ۲۳۷ جلد چهارم مکفرین علماء و مشائخ جن کو حضرت اقدس نے اپنے اعلان میں دعوت مباہلہ دی تھی ان میں سے وہاں کوئی موجود نہ تھا۔عبدالحق غزنوی مسجد غزنویہ کے کچھ طالب علموں کے ساتھ آیا غزنوی جماعت کے امام اور عماید سب غیر موجود تھے۔گویا ہیبت حق پہلے سے ان پر طاری تھی۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی آئے مگر مباہلہ پر آمادہ نہ ہوئے جیسا کہ اس جلسہ کی روئداد مرقومہ حضرت میرحامد شاہ صاحب سے پوری صراحت ہوتی ہے۔(مولف عرفانی الاسدی کو بھی یہ سعادت حاصل تھی کہ وہ اس جہاد فی سبیل اللہ میں شریک تھا) فریقین کا موقف اس میدان میں حضرت اقدس مع اپنی جماعت کے قبلہ روکھڑے تھے۔گویا فَوَلٌ وَجْهَكَ شَطْرَہ پر عمل تھا۔اور غزنوی مباہل قبلہ کی طرف پیٹھ کر کے کھڑا تھا اور اس کے ساتھی ( جو مباہلہ میں شریک نہ تھے بلکہ تماشائی تھے ) اس کے پیچھے کوئی دس قدم کا فاصلہ دے کر کھڑے تھے۔عبدالحق نے گالی اور بد زبانی کا کوئی پہلو باقی نہ رکھا جس سے اس کی زبان آلودہ نہ ہوئی اور جو بدترین بددعائیں اور لعانی الفاظ ممکن تھے اس نے استعمال کئے۔مگر حضرت اقدس نے کسی کے حق میں بددعا نہ کی بلکہ گالیاں سن کے دعا دیتا ہوں ان لوگوں کو رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹایا ہم نے آپ کا اسوہ حسنہ تھا آپ نے اشتہار میں جن الفاظ کا اعادہ کیا تھا وہی الفاظ دوہرائے اور جس وقت آپ یہ دعا پڑھ رہے تھے تو جماعت میں ایک محشر کا سماں بندھ گیا۔بے اختیار لوگوں کی چھینیں نکل گئیں مگر حضرت پورے وقار اور سکون کے ساتھ ان الفاظ کا تکرار کر رہے تھے۔اس لئے کہ آپ کی روح اپنی صداقت کے یقین سے بھری ہوئی تھی آپ ابھی اپنی دعا کو ختم نہ کر چکے تھے۔