حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 234 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 234

حیات احمد ۲۳۴ جلد چهارم میں مقیم تھا اور عبدالمالک غزنوی ابن سید احمد غزنوی احمدیت کی طرف متوجہ تھا۔اور مجھ سے ربط ضبط رکھتا تھا۔اس نے یہ واقعات بیان کئے۔انہیں دنوں میں عبدالرحیم ابن مولوی عبد اللہ غزنویؒ نے مجھ پر جارحانہ حملہ کیا اور مار پیٹ کی جس پر میں نے باقاعدہ عدالت میں ( رو بروخواجہ یوسف شاہ صاحب ( آنریری مجسٹریٹ ) مقدمہ دائر کر دیا اور آخر میں نے بعض شرفاء امرت سر کی درخواست پر جن کے رئیس منشی جیون علی سپرنٹنڈنٹ ڈپٹی کمشنر اور بابو محکم دین صاحب مختار عدالت ( جو آخر میں احمدی ہو گئے ) تھے ان کے اس عذر پر کہ اس سے اسلام بدنام ہو گا۔معاف کر دیا ( تفصیلی ذکر پھر کبھی آجائے گا) غرض غریب عبدالحق کا کسی نے ساتھ نہ دیا۔مولوی محمد حسین بٹالوی جو یوں تو بڑی لاف گذاف مارتا تھا۔اور یوم مباہلہ میں عیدگاہ میں تو آیا لیکن مباہلہ کے لئے آگے نہ بڑھا باوجود یکہ اس کو غیرت دلانے کے لئے ایک خاص اشتہار بھی شایع کیا گیا اور اس مباہلہ کی تاریخ کا اعلان بھی عام لوگوں کی اطلاع کے لئے شائع کیا گیا۔یہ دونوں اشتہار درج ذیل ہیں۔اعلان عام بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلَّى عَلَى رَسُوْلِهِ الْكَرِيمِ إِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَالَّذِينَ هُمْ مُّحْسِنُونَ اُس مباہلہ کی اہل اسلام کو اطلاع جود ہم ذیقعد روز شنبہ کو بمقام امرتسر عیدگاه متصل مسجد خان بہادر حاجی محمد شاہ صاحب مرحوم ہوگا اے برادران اہلِ اسلام کل دہم ذیقعد روز شنبہ کو بمقام مندرجہ عنوان میاں عبد الحق غزنوی اور بعض دیگر علماء جیسا کہ انہوں نے وعدہ کیا ہے اس عاجز سے اس بات پر مباہلہ کریں گے کہ وہ لوگ اس عاجز کو کافر اور دجال اور بے دین اور دشمن اللہ ل النحل : ١٢٩