حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 233
حیات احمد ۲۳۳ جلد چهارم اپنے عقیدہ تکفیر میں اپنے تئیں کا ذب اور ظالم اور ناحق پر سمجھتے ہیں بالخصوص سب سے پہلے شیخ محمد حسین بٹالوی صاحب اشاعۃ السنہ کا فرض ہے کہ میدان میں مباہلہ کے لئے تاریخ مقررہ پر امرتسر میں آجاوے کیونکہ اس نے مباہلہ کے لئے خود درخواست بھی کر دی ہے اور یادر ہے کہ ہم بار بار مباہلہ کرنا نہیں چاہتے کہ مباہلہ کوئی ہنسی کھیل نہیں ابھی تمام مکفرین کا فیصلہ ہو جانا چاہیے۔پس جو شخص ہمارے اشتہار کے شائع ہونے کے بعد گریز کرے گا اور تاریخ مقررہ پر حاضر نہیں ہوگا آئندہ اس کا کوئی حق نہیں رہے گا کہ پھر کبھی مباہلہ کی درخواست کرے اور پھر ترک حیا میں داخل ہوگا کہ غائبانہ کافر کہتا رہے۔اتمام حجت کے لئے رجسٹری کرا کر یہ اشتہار بھیجے جاتے ہیں تا اس کے بعد مکفرین کو کوئی عذر باقی نہ رہے۔اگر بعد اس کے مکفرین نے مباہلہ نہ کیا اور نہ تکفیر سے باز آئے تو ہماری طرف سے ان پر حجت پوری ہوگئی۔بالآخر یہ بھی یادر ہے کہ مباہلہ سے پہلے ہمارا حق ہوگا کہ ہم مکفرین کے سامنے جلسہ عام میں اپنے اسلام کے وجوہات پیش کریں۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى المشتهـ خاکسار مرزا غلام احمد ۳۰ رشوال ۱۳۱۰ھ مطابق مئی ۱۸۹۳ء تبلیغ رسالت جلد ۳ صفحه ۴۸ تا ۵۳ - مجموعه اشتہارات جلد ا صفحه ۳۴۴ تا ۴۸ ۳ طبع بار دوم ) اس اشتہار اور ۱/۲۵ پریل ۱۸۹۳ء کے اشتہار میں ان تمام علماء کو نہ صرف مخاطب کیا گیا بلکہ رجسٹر ڈ خطوط ہر ایک کو اس میدان مباہلہ میں آنے کے لئے بھیجے گئے اور ان میں سے کسی کو جرات نہ ہوئی اور صرف عبد الحق غزنوی کو قربانی کا بکرا قرار دیا۔خود عبدالحق غزنوی نے بعض علماء کو شریک مباہلہ ہونے کے لئے ذاتی طور پر لکھا۔اور تو اور خود ان کے گھر میں مولوی عبدالجبار صاحب اور غزنوی جرگہ موجود تھا۔ان میں سے بھی کوئی اُن کے ساتھ نہ ہوا بلکہ امر واقعہ یہ ہے کہ اندرونی طور پر ان کے اکابر نے عبدالحق کو منع کیا تھا۔اور یہ مؤلف کا ذاتی علم ہے جبکہ وہ امرتسر