حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 232
حیات احمد ۲۳۲ جلد چهارم شیخ محمد حسین بٹالوی اور منشی سعد اللہ مدرس ہائی اسکول لودہیانہ اور عبدالعزیز واعظ لد ہیانہ اور منشی محمد عمر سابق ملازم ساکن لد ہیانہ اور مولوی محمد حسین صاحب رئیس لد ہیا نہ اور میاں نذیر حسین صاحب دہلوی اور پیر حیدرشاہ صاحب اور حافظ عبدالمنان صاحب وزیر آبادی اور میاں عبداللہ ٹونکی اور مولوی غلام دستگیر قصوری اور مولوی شاہدین صاحب اور مولوی مشتاق احمد صاحب مدرس ہائی اسکول لد ہیا نوی اور مولوی رشید احمد گنگوہی اور محمد علی واعظ ساکن بو پراں ضلع گوجرانوالہ اور مولوی محمد اسحق اور سلیمان ساکنان ریاست پٹیالہ اور ظہور الحسن سجادہ نشین بٹالہ اور مولوی محمد ملازم مطبع کرم بخش لاہور وغیرہ اور اگر یہ لوگ باوجود پہنچنے ہمارے رجسٹری شدہ اشتہارات کے حاضر میدان مباہلہ نہ ہوئے تو یہی ایک پختہ دلیل اس بات پر ہوگی کہ وہ در حقیقت بقیہ حاشیہ۔فوراً تمہارے کافر کہنے سے تائب ہو جاؤں گا۔اب حسب اشتہار خود مباہلہ کے واسطے بمقام امرت سر آؤ۔مباہلہ اس بات پر ہوگا کہ تم اور تمہارے سب اتباع دجالیں کذابین ملاحدہ اور زنادقہ باطنیہ ہیں۔اور میدان مباہلہ عید گاہ ہوگا۔تاریخ جو تم مقرر کر و۔اب بھی تم بموجب اشتہار خودمباہلہ کے واسطے بمقام امرت سر نہ آئے تو پھر اور علماؤں سے درخواست مباہلہ اول درجہ کی بے شرمی اور پرلے سرے کی بے حیائی ہے اور اَلا لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِيْنَ کا مصداق بننا ہے۔اب ضرور دلیری و توکل کر کے ہزیمت نہ کرو بُلُوغ الْآمَالِ فِي رُكُوبِ الْأَهْوَالِ اور اگر ایسے ہی کاغذوں کی گڈیاں اڑانا ہے اور حقیقت اور نتیجہ کچھ نہیں پھر تم پر یہ مسیحیت مبارک ہو۔اللہ تعالیٰ نے تمہاری عمر کو ضائع کیا اور مسلمانوں کی عمر عزیز کا ناحق خون کیوں کرتے ہویے گر ازیں بار باز ہم پیچی سرے بر تو شد نفرین رب اکبرے المشتهـ عبد الحق غزنوی از امرت سر ( پنجاب ) ۲۶ شوال ۱۳۱۰ھ تبلیغ رسالت جلد ۳ صفحه ۴۸ تا ۵۲ حاشیہ مجموعہ اشتہارات جلد اصفحه ۳۴۴ تا ۳۴۷ طبع بار دوم ) ترجمہ۔اگر تو اب بھی دوبارہ سرکشی کرے تو تجھ پر ربّ اکبر کی پھٹکار ہے۔