حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 200
حیات احمد جلد چهارم متعلق غیر متعلق جائز ناجائز واجب نا واجب کا جھگڑا طے ہو گیا۔افسوس افسوس ! اب ناظرین سمجھ لیں کہ کہاں تک ایسا دخل در معقولات میر مجلس عیسائی صاحبان کے فرائض منصبی میں شمار ہوسکتا ہے۔ہمیشہ ڈاکٹر صاحب کی طرف سے ہر موقعہ پر کوئی نہ کوئی نئی تحریک پیش ہو جاتی تھی اور بہت سا وقت ایسی لایعنی بحثوں میں گزر جاتا تھا۔اکثر نمو نے اس قسم کی فضول تحریکات کے کسی کسی روئداد مطبوعہ میں بھی ناظرین کو ملیں گے۔منشی غلام قادر صاحب فصیح میر مجلس اہلِ اسلام کی متحمل اور ئر دباری ڈاکٹر صاحب کی ہر بار کے دخل در معقولات کو گوارا کر لیتی تھی۔مگر فصیح صاحب چپکے چپکے ڈاکٹر صاحب کی بہت سی باتوں کو اپنی لیاقت کی عمدگی اور تجربہ کاری کی خوبی سے بغیر پیش ہوئے بھی رد کر دیتے تھے۔اگر ڈاکٹر صاحب کی جوش بھری طبیعت کا ہر ایک بخار نکلنے پر آتا تو ان کی سختی جو ہر ایک پہلو میں وہ برتنا چاہتے تھے شاید ایک دن بھی اس مناظرہ کو چلنے نہ دیتی۔کچھ تو فصیح صاحب کے ذاتی حوصلہ اور کچھ حضرت اقدس جناب مرزا صاحب کی کریم انفسی کے سبب سے یہ مناظرہ انجام تک پہنچا۔یوں تو ڈاکٹر صاحب ہنس ہنس کر خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے۔اگر چہ ان کی ہنسی اکثر زہر خندہ کا حکم رکھتی تھی۔مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ اپنی طرف کی بے جا رعایت اور ناجائز حمایت کے جوش نے ڈاکٹر صاحب کو ان کے منصب پریذیڈنٹی کے ذاتی فرائض سے بڑھ کر حصہ لینے پر ہر وقت آمادہ رکھا جس سے مجبوراً یہ نتیجہ نکالنا پڑتا ہے کہ ان کو ہرگز منظور نہ تھا کہ اس مناظرہ کا اصول حق طلبی پر بنی ہو۔اور بچے قادر مطلق وَحْدَهُ لَا شَرِیک خدا کی بادشاہت کا سکہ دلوں پر بیٹھے۔ڈاکٹر صاحب اپنے عیسائی بھائیوں کی عارضی مدارات کے اپنے ہر ایک قول و فعل میں سامان پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہے۔اور ان کی طبع کا میلان عموماً اسی قسم کی حجت بازیوں کی طرف ہوتا تھا کہ ایسا نہ ہو کہ حضرت اقدس مرزا صاحب کے فوق العادت مدلل اور معقول مضامین کا اثر عیسائی جماعت پر پڑ جائے اکثر بے خود ہو ہو کر کئی موقعوں پر وہ ایسے الفاظ بھی استعمال کرتے تھے کہ جن سے تاثیر بیانات رک جائے۔مثلاً عموماً ان کا یہ کہنا کہ کچھ لذت نہیں آئی۔یہ مناظرہ بالکل بے لذت ہے۔اس سے کیا نتیجہ نکلے گا۔یہ تو وقت کا ضائع کرنا ہے۔