حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 199 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 199

حیات احمد ۱۹۹ جلد چهارم جاتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب بیٹھے تو امن کرانے کے واسطے تھے مگر دیکھنے میں اکثر یہ ہی آیا کہ اگر جلسہ میں کوئی بے امنی پیدا ہو جاتی تھی تو ان کی اس بے جا روک سے جس پر ان کے اپنے وکیل ڈپٹی صاحب ہی رضا مند نہ ہوتے تھے مثلاً پہلے دن حضرت مقدس کے پہلا سوال پیش کرنے پر جو خلاف شرائط ہونے کا الزام ڈاکٹر صاحب نے لگایا، جس کا ذکر اوّل ہو چکا ہے اسی سے عبداللہ آتھم صاحب نے اتفاق نہیں کیا اور ان کے دخل دینے پر اظہار ناپسندیدگی کر کے اس اعتراض کے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔اور کہا کہ کچھ مضائقہ نہیں۔ہم جواب لکھاتے ہیں۔مگر مجھے وہ انداز یاد ہے کہ جس جابرانہ طرز سے ڈاکٹر صاحب نے ان کو کہا کہ بس آپ چپ رہیں۔آپ سے مناسب نامناسب کوئی نہیں پوچھتا۔ہم خلاف قواعد نہ کریں گے۔تعجب ہے کہ ایک امر جو معرضِ بحث میں آتا ہے وہ اس کو حریف مقابل منظور کرتا ہے کہ کچھ حرج نہیں ہے کہ میں جواب دیتا ہوں۔اس پر تنازعہ نہ بڑھاؤ۔پریذیڈنٹ صاحب مدعی امن ہیں کہ نزع کو قائم کرتے ہیں اور اپنے وکیل پر حکومت کرتے ہیں کہ ہم آپ کو نہیں لکھانے دیتے آپ چپ رہیں۔اس سوال کا اسی وقت طے ہو جانا ضروری تھا کہ آیا کسی پریذیڈنٹ کو اختیار ہے کہ وہ کسی فریق مباحث کو اپنا بیان لکھانے سے روکے۔مگر افسوس ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے طفلانہ مذاق اور ناجائز ہٹ نے اس کا فیصلہ نہ ہونے دیا۔اگر چہ پیچھے جا کر دوسرے حصہ بحث میں باوجود ڈاکٹر صاحب کے بے قابو ہو جانے اور سخت اشتعال طبع کے یہ معاملہ طے ہو گیا کہ ہر دو صاحبان بحث کرنے والوں کو اختیار ہے کہ جو چاہیں لکھا ئیں کوئی ان کو روک نہیں سکتا۔اگر چہ ڈاکٹر صاحب کی رائے کی غلطی پیچھے کھلی مگر کھلی ضرور۔دیکھو روئداد جلسہ ۳۰ رمئی ۱۸۹۳ء۔اگر ڈاکٹر صاحب کی یہ غلطی پہلے ہی رفع کر دی جاتی تو اول حصہ بحث میں حضرت مقدس جناب مرزا صاحب کا پہلا بیان جائز ہو جاتا اور پھر ڈپٹی صاحب کا جواب بھی تحریر ہو جاتا اور بحث کی عمدگی کے بہت سے پہلو نکل آتے۔اس سوال کا دوسرے حصہ بحث میں طے ہونا عیسائی صاحبان اور خصوصاً ڈاکٹر صاحب پر ایک الزام ہے کہ اپنے فائدہ کی صورت دیکھ کر چپ ہو رہے کہ اب جو خوشی آوے ڈاکٹر صاحب سے لکھوادیں۔