حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 189 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 189

حیات احمد ۱۸۹ جلد چهارم رو نداد ۲۵ مئی ۱۸۹۳ء آج چھ بجے آٹھ منٹ پر میرزا صاحب نے اپنا جواب لکھانا شروع کیا۔اور سات بجے آٹھ منٹ پر ختم کیا۔اس موقع پر یہ تحریر پیش ہوئی اور باتفاق رائے پیش ہوئی کہ چونکہ مضمون سنائے جانے کے وقت کا تب تحریروں کا مقابلہ بھی کرتے ہیں اس لیے ان کی روک ٹوک کی وجہ سے مضمون بے لطف ہو جاتا ہے۔اور سامعین کو مزہ نہیں آتا۔بناء برآں ایسا ہونا چاہیے کہ کا تب پیشتر مضمون سنائے جانے کے باہم تحریروں کا مقابلہ کر لیا کریں۔پھر ڈپٹی عبد اللہ آتھم صاحب نے ۷ بجے ۵۴ منٹ پر جواب لکھانا شروع کیا۔اور ۸ بجے ۵۴ منٹ پر جواب ختم ہوا۔اور بعد مقابلہ بلند آواز سے سنایا گیا۔پھر مرزا صاحب نے ۹ بجے ۲۴ منٹ پر شروع کیا۔اور ۱۰ بجے ۲۴ منٹ پر ختم ہوا۔اور بلند آواز سے سنایا گیا۔بعد ازاں فریقین کی تحریروں پر میر مجلس صاحبان کے دستخط ہوئے اور مصدقہ تحریریں فریقین کو دی گئیں۔اور جلسہ برخاست ہوا۔روئداد ۲۶ مئی ۱۸۹۳ء آج ۶ بجے گیارہ منٹ پر مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب نے جواب لکھانا شروع کیا۔بجے 4 منٹ پر ختم کیا اور بلند آواز سے سنایا گیا۔مرزا صاحب نے ے بج کر ۲۲ منٹ پر شروع کیا۔اور ۸ بجے ۲۲ منٹ پر ختم ہوا۔مرزا صاحب کا مضمون سنائے جانے کے بعد یہ سوال پیش ہوا کہ مرزا صاحب نے جو اپنے مضمون کے اخیر میں عیسائی جماعت کو عام طور پر مخاطب کیا ہے اس کے متعلق بعض عیسائی صاحبوں کو جو خواہش رکھتے ہیں جواب دینے کی اجازت ہو جاوے۔سب سے پہلے پادری ٹامس ہاول صاحب نے اجازت طلب کی اور مرزا صاحب نے اپنی طرف سے اجازت دے دی اس کے بعد پادری احسان اللہ صاحب نے کہا کہ شرائط کے بموجب عیسائی صاحبان کے کسی اور کو بولنے کی اجازت نہیں۔اور اس سوال میں عیسائی صاحبان کو عام طور پر مخاطب کیا گیا ہے۔اس لیے یہ جواب نا واجب ہی سمجھا جانا چاہیے اس پر میر مجلس اہل اسلام نے