حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 190
حیات احمد ١٩٠ جلد چهارم بیان کہا کہ جس ترتیب کے ساتھ سوال ہوا ہے اسی ترتیب کے ساتھ جواب دیا جانا چاہیے یعنی سوال بھی مسٹر عبد اللہ آ تم صاحب کے ذریعہ عام طور پر عیسائی صاحبان سے کیا گیا ہے اور جواب بھی انہیں کے ذریعہ اسی ترتیب کے ساتھ دیا جائے۔یعنی اس سوال کے جواب کے موقع پر کسی عیسائی صاحب کو جو ا جازت طلب کرتے ہیں پیش کر دیں۔اس پر میر مجلس صاحبان نے بیان کیا کہ اس طریق سے مباحثہ کے انتظام میں نقص آئے گا بہتر یہ ہے کہ اس سوال کو ہی نکال دیا جائے اس پر مرزا صاحب نے بیان کیا کہ اس میں اتنی ترمیم کی جاسکتی ہے کہ اس سوال کو صرف مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب تک ہی محدود کیا جائے۔اور یہ ترمیم با تفاق رائے منظور ہوئی۔اس کے بعد پادری جے۔ایل۔ٹھاکر داس صاحب نے اجازت لے کر بیان کیا کہ مرزا صاحب کو یہ سوال عیسائی صاحبان پر کرنے کا حق ہے۔مگر چونکہ اس سے پہلے اس امر کا تصفیہ ہو چکا تھا۔اس لیے وہی بحال رہا۔پھر مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب نے جواب آٹھ بجے ال۵ منٹ پر شروع کیا اور ۹ بجے ۲۲ منٹ پر ختم کیا۔پھر مرزا صاحب نے ۹ بجے ۳۰ منٹ پر جواب لکھنا شروع کیا اور ۱۰ بجے ۳۰ منٹ پر ختم کیا۔بعد ازاں فریقین کی تحریروں پر میر مجلس صاحبان کے دستخط کئے گئے اور مصدقہ تحریریں فریقین کو دی گئیں۔اور جلسہ برخواست ہوا۔رونداد ۲۷ رمئی ۱۸۹۳ء آج پھر جلسہ منعقد ہوا۔ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب نے یہ تجویز پیش کی کہ چونکہ پادری ہے۔ایل ٹھا کر داس صاحب بوجہ ضروری کام کے گوجرانوالہ میں تشریف لے گئے ہیں اس لئے ان کی بجائے ڈاکٹر عنایت اللہ صاحب ناصر مقرر کئے جائیں۔تجویز منظور ہوئی۔پھر یہ تحریک ڈاکٹر عنایت اللہ صاحب ناصر اور بتائید میر حامد شاہ صاحب اور باتفاق رائے حاضرین یہ تجویز منظور ہوئی کہ شرائط مباحثہ میں قرار دیا گیا تھا کہ ہر ایک تقریر پر تقریر کنندوں اور میر مجلس صاحبان کے دستخط ہونے چاہئیں۔بعوض اس کے میں پیش کرتا ہوں کہ صرف میر مجلس