حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 179
حیات احمد ۱۷۹ جلد چهارم پڑھو۔اگر چہ میں خود ایک عینی گواہ ہوں مگر میں نے ضروری سمجھا کہ حضرت میر حامد شاہ صاحب رضی اللہ عنہ کی یاد تازہ رکھنے اور دعاؤں کا موقعہ دینے کے لئے ان کے رقم زدہ بیان کو محفوظ کر دوں۔اور اس طرح پر ان کی قلمی خدمت کی تاریخی حیثیت باقی رہے۔فرمایا حسب شرائط اقرار نامه ۲۲ مئی ۱۸۹۳ء کو جلسہ بحث شروع ہوکر جنگ مقدس کا آغاز ہوا میدان مقابلہ ڈاکٹر ہنری مارٹن صاحب کی کوٹھی جو ہال دروازہ سے باہر اسٹیشن ریلوے سڑک سے کسی قدر فاصلہ پر جانب شمال و مشرق برلب سڑک واقع ہے قرار دیا گیا۔صبح چھ بجے حضرت مقدس خنداں خنداں باہر تشریف لائے اور سب رفقاء کو جو پہلے سے تیار ہوکر دروازہ مکان کے سامنے برکپ سڑک منتظر کھڑے تھے ہمراہ لے کر دیگر شائقین کے ساتھ ایک فوج کی صورت میں مقابلہ کو پا پیادہ روانہ ہوئے۔شہر امرتسر میں یہ پہلا ایک نظارہ تھا جس کو عام خاص آنے جانے والے نہایت تعجب سے دیکھتے تھے اور جب یہ سنتے تھے کہ یہ جماعت پاک مذہب اسلام کی طرف۔بقیہ حاشیہ نمبرا۔نے جب سب سے پہلے واقفانِ زندگی کی تحریک شروع کی تو اس وقت کی سب سے پہلی جماعت واقفین کا اسے سیکرٹری مقرر کیا اور اسے یہ سعادت نصیب ہوئی کہ حضرت امیر المؤمنین خود ان کو پڑھاتے رہے۔غرض اس مکان کو یہ بھی شرف حاصل تھا کہ حضرت حکیم الامت۔حضرت حکیم فضل الدین صاحب اور بعض دوسرے اکابر جماعت مجھے اپنے قیام سے نوازتے رہے۔اور میں تو اپنے لئے اس مکان کو ہمیشہ باعث برکات سمجھتا رہا ہوں کہ اسی مکان کے قیام میں اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق بخشی کہ میں بحیثیت صحافی سلسلہ میں پایونیر ٹھہرا۔وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِکَ۔(عرفانی الاسدی) بقیہ حاشیہ نمبر ۲۔جنگ مقدس میں شریک ہونے والوں میں سے جہاں تک میراعلم ہے اس وقت صرف تین آدمی موجود ہیں۔خود یہ راقم الحروف (( جو جنگ مقدس کے پورے ساٹھ سال بعد یہ حالات لکھ رہا ہے ) حضرت ڈاکٹر مفتی محمد صادق صاحب اور حضرت حکیم مرہم عیسی صاحب۔مباحثہ کے بیانات لکھنے والے پڑھنے والے اور جلسہ میں شمولیت کرنے والے عیسائیوں کے بھی اور اہل اسلام کے بھی وہ تمام شرکاء جلسہ فوت ہو چکے ہیں جن میں امرتسر کے غیر احمدی رؤسا بھی شریک تھے۔اور وہ نہایت اخلاص اور سچے جذبہ حُب الاسلام سے شریک جلسہ ہوتے تھے۔آہ آج ان کا صرف تصور میرے آئینہ خیال میں ہے۔اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے آمین ( عرفانی الاسدی)