حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 178
حیات احمد ۱۷۸ جلد چهارم مکان خالی تھا مگر شیخ صاحب نے دوسرے کرایہ داروں کو جو ہندوستانی مسلمان تھے ایک مکان میں اکٹھا کر دیا اور ایک مکان حضرت کے اہلِ بیت کے لئے پورا خالی کرا دیا اور خالی مکان بطور مہمان خانہ استعمال ہونے لگا۔انتظام بھی شیخ صاحب مرحوم کے سپر د تھا۔اور وہاں ایک اچھا خاصہ لنگر خانہ جاری ہو گیا اور جن لوگوں کے مکان کو خالی کر دیا گیا وہ سب وہاں ہی سے کھانا کھاتے تھے اور جماعت کے اکثر لوگ مسجد شیخ خیر الدین مرحوم میں رات کو سوتے تھے۔جیسا کہ اوپر ذکر ہوا۔۲۱ مئی ۱۸۹۳ء کو اتوار تھا اور ۲۲ مئی ۱۸۹۳ء یوم دوشنبہ جلسہ کے انعقاد کے لئے مقرر تھا۔اور ۲۳ مئی ۱۸۹۳ء کی صبح امرتسر میں كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَانٍ کا ایک نیا جلوہ لے کر آئی۔جنگ مقدس کا آغاز اور مقام جنگ ۲۲ مئی ۱۸۹۳ء کی صبح کو حضرت اقدس ہشاش بشاش ایک جلیل القدر سپہ سالار اسلام کی صورت میں باہر تشریف لائے اور اس کا نقشہ حضرت میر حامد شاہ رضی اللہ عنہ کے الفاظ میں لے حاشیہ۔راقم الحروف ( عرفانی الاسدی) جب تک امرتسر میں رہا اسی مکان میں تبر کا مقیم رہا۔اور چونکہ میں تنہا رہتا تھا اس لئے اسی مکان میں ابتداء قادیان سے آنے والے احباب اور قادیان جانے والے بھائی اکثر میرے پاس قیام فرماتے۔اسی مکان میں میں نے جماعت کو منظم کرنے کے لئے انجمن فرقانیہ کے نام سے ایک انجمن قائم کی اور یہ سلسلہ میں سب سے پہلی انجمن تھی پھر اس کی تقلید میں لاہور میں اسی نام کی انجمن قائم ہوئی اسی مکان میں الحکم کا اجرا ہوا۔(اکتوبر ۱۸۹۷ء میں ) اور اسی اکتوبر کے تیسرے ہفتہ میں میرا پلوٹھا بیٹا ( ابوالخیر محمود احمد ) پیدا ہوا جس کی پیدائش پر میں نے اسے خدمت دین کے لئے وقف کیا اور اللہ تعالیٰ نے اسے توفیق دی کہ بالغ اور فارغ التحصیل ہو کر اس وقف کو اپنے عمل سے نبھایا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے حاشیہ۔حضرت میر حامد شاہ صاحب رضی اللہ عنہ سیالکوٹ کی جماعت کے ممتاز بزرگوں میں سے تھے۔اور اس خاندان کے بزرگ حضرت میر حکیم حسام الدین رضی اللہ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اس وقت سے ارادت اور عقیدت رکھتے تھے جب آپ ۶۴ - ۱۸۶۸ء تک سیالکوٹ میں مقیم تھے اور حکیم صاحب موصوف نے حضرت سے طب کی تعلیم بھی پائی تھی ابتدائی ایام سلسلہ میں سیالکوٹ کی جماعت اپنی قلمی خدمات کے لحاظ سے ممتاز تھی۔جنگ مقدس کے بہت جلد بعد حضرت میر حامد شاہ صاحب نے جنگِ مقدس کے فوٹو کے نام سے ایک رسالہ شائع کر دیا تھا۔اسی کے اقتباس اس کتاب میں ہیں۔یہ عجیب بات ہے کہ