حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 180
حیات احمد ۱۸۰ جلد چهارم سے عیسائی صاحبان کے ساتھ مقابلہ کرنے کے واسطے جاتی ہے تو بے اختیار ان کے دل میں جوش اسلامی کے اس جماعت میں ہونے کا ایک اعلیٰ یقین ہوتا تھا۔اور دیگر اسلامی جماعتوں کی غفلت اور عدم توجہی پر انہیں افسوس کرنا پڑتا تھا۔مرد تو مرد۔اپنے گھروں کے دروازوں کے آگے کھڑی ہوئی عورتوں کے منہ سے بھی یہ آوازیں نکلتی تھیں کہ یہ جماعت اسلام کی خاطر دینی لڑائی کے واسطے جاتی ہے۔خیر یہ آمد و رفت تو برابر ۱۳ یوم تک جاری رہی اور حضرت مقدس جناب مرزا صاحب کی محبت اور اخلاص دینی اور ان کی اعلیٰ تقدس اور پاکیزگی اور ان کی جماعت کی ہمت اور ہمدردی اسلام کا ایک غالب ثبوت دیتے رہے اور جب تک یہ تحریریں صفحہ دنیا پر قائم ہیں نشان کے طور پر اس جماعت اور اس کے پیشوا کی جان نثاریاں قائم رہیں گی۔یہ مجاہدین فی سبیل اللہ کی جماعت کوٹھی ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک صاحب پر پہنچی اور ٹکٹوں کے ذریعہ سے ہر ایک شخص داخل ہوا۔احاطہ کوٹھی میں پہنچ کر نظر آیا کہ ڈاکٹر صاحب نے کوٹھی کے مغربی برآمدے کو فرش سے آراستہ کیا ہے۔یہ امر کہ کسی خاص کمرہ کو ٹھی کو اس جلسہ کے واسطے مقرر نہ کیا گیا اگر چہ غیر متعلق ہے کیونکہ جو مکان تجویز کیا گیا اور وہ بلحاظ نشست ہر دو فریق کے یکساں تھا مگر اتنا ضرور خیال کیا جاسکتا ہے کہ برآمدہ کی مکانیت اس بات کی اجازت نہیں دیتی تھی کہ ایک ایسے مستقل جلسہ کے واسطے اس کو مخصوص کیا جائے۔خیر اس پر کچھ چنداں اعتراض بھی نہیں ہے۔شاید ڈاکٹر صاحب کے پاس اس کی کوئی معقول وجوہات ہوں گی کہ جن کی بنا پر انہوں نے بیرونی غلام گردش یا برآمدے کو اپنے اور اپنے مہمان مسافروں کے اجلاس کے واسطے گوارا کیا اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان کی کوئی معذوری قابل پذیرائی ہو۔4 بج کر ۱۵ منٹ پر کارروائی جلسہ شروع ہوئی۔مسلمانوں کی طرف سے منشی غلام قادر صاحب فصیح وائس پریذیڈنٹ میونسپل کمیٹی سیالکوٹ نے میر مجلسی کی عزت کو حاصل کیا اور خود حضرت مقدس جناب مرزا صاحب نے ان کو مقرر فرمایا۔جس کو منشی صاحب موصوف نے الْأَمْرُ فَوْقَ الادب کے لحاظ سے بخوشی خاطر منظور کر لیا۔اس منصب کے فرائض کو منشی صاحب نے کیسے پورا کیا یہ آئندہ چل کر اپنے موقعہ پر بیان ہوگا جہاں ہر دو پریذیڈنٹ صاحبان کے