حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 172 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 172

حیات احمد ۱۷۲ جلد چهارم نقل خط مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب ۹ رمئی ۱۸۹۳ء من مقام امرت سر جناب مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیان بجواب جناب کے حجتہ الاسلام متعلق بندہ کے عرض ہے کہ اگر جناب یا کوئی اور صاحب کسی صورت سے بھی یعنی به تحدی معجزه یا دلیل قاطع عقلی تعلیمات قرآنی کوممکن اور موافق صفات اقدس ربانی کے ثابت کر سکیں تو میں اقرار کرتا ہوں کہ مسلمان ہو جاؤں گا۔جناب یہ سند میری اپنے ہاتھ میں رکھیں باقی منظوری سے مجھے معاف رکھیے کہ اخباروں میں اشتہار دوں۔اس پیالہ کو ٹلانے کے لئے منصوبے دستخط مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب جیسا کہ میں پہلے بھی لکھ آیا ہوں کہ ڈاکٹر کلارک نے پہلے بھی کوشش کی تھی کہ کسی طرح یہ موت کا پیالہ ٹل جاوے لیکن جب میاں محمد بخش صاحب پانڈہ نے ان کو منہ توڑ جواب دیا تو اس کے سوا چارہ نہ رہا کہ بحث ہو جائے اس لئے کہ چیلنج خود انہوں نے دیا تھا۔میں یہاں ایک حقیقت کے اظہار سے رک نہیں سکتا کہ ان مرتد مسلمانوں نے جو عیسائی ہو چکے تھے ڈاکٹر کلارک کو مغالطہ دیا۔اور اس کو اس بحث میں عیسائیت کی طرف لوگوں کے زبر دست رجوع کا یقین دلایا۔راقم الحروف خیالی طور پر نہیں بلکہ عینی مشاہد اور واقعات سے باخبر کی حیثیت سے لکھ رہا ہے۔اس مباحثہ کے بعد کئی سال تک اس کا قیام امرت سر میں رہا اور ان تمام عیسائی ( مرتد مسلمانوں ) سے ہمیشہ سلسلہ گفتگو جاری رہتا تھا۔اور ان میں سے بعض نے اپنی ندامت مٹانے کو ایک دوسرے کی منصوبہ بازیوں کا اظہار کیا اور نہ صرف اس مباحثہ کے لئے سلسلہ جنبانی میں بلکہ مباحثہ کے ایک عرصہ بعد ڈاکٹر کلارک کو ایک بہت بڑا مغالطہ بطریق سازش دیا۔جس کا ذکر میں اپنے موقعہ پر کروں گا۔اور وہ سازش اس مباحثہ میں شکست اور ذلت کو مٹانے کے لئے کی گئی تھی۔تاریخ سلسلہ میں یہ ڈاکٹر کلارک کا حضرت کے خلاف اقدام قتل کا مقدمہ کہلاتا ہے اور میں نے اس کو