حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 173 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 173

حیات احمد ۱۷۳ جلد چهارم دوسری جنگ مقدس کا نام دے کر اس کے حالات شائع کئے تھے۔اس طرح پر ڈاکٹر کلارک دراصل ایک فریب خوردہ میری نظر میں ٹھہرتا ہے لیکن باوجود ڈاکٹر ہونے کے وہ اس حقیقت کو نہ سمجھ سکا اور چونکہ اس مباحثہ کے بعد اوپر کے طبقوں میں اس پر بھی اعتراض ہوا تھا۔اس لئے ایک انتقامی رنگ بھی آخر میں پیدا ہو گیا۔لیکن در حقیقت یہ تَقْدِيرُ الْعَزِيزُ الْعَلِیم تھی اور حضرت کے ذریعہ کسر صلیب کا ایک حربہ خود ان کے ہاتھوں پیدا کر دیا غرض یہ سب کچھ طے ہو جانے کے بعد پھر ڈاکٹر کلارک کو خیال آیا کہ کسی طرح پر یہ موت کا پیالہ ٹل جاوے تو اچھا ہے۔اور اسی ادھیٹر بن میں ان کی امداد کے لئے سلسلہ عالیہ احمدیہ کے تلخ ترین دشمن مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی امداد حاصل ہوگئی اور ایک مشورہ یا منصوبہ کے بعد تو ڈاکٹر صاحب کو یقین ہو گیا کہ یہ پیالہ ٹل جائے گا۔مگر منصو بہ ان کی اور ان کے ہمنواؤں کی مزید ذلت کا باعث ہوا۔جس کی تفصیل یہاں دیتا ہوں۔مولوی محمد حسین صاحب کا طرز عمل اب جبکہ مولوی محمد حسین صاحب اس دنیا میں نہیں اور مرنے سے پہلے انہوں نے فتویٰ کفر سے رجوع کر لیا تھا شاید مناسب نہ سمجھا جاوے کہ میں اس مباحثہ کے سلسلہ میں ایک ایسے واقعہ کا اظہار کروں جو اسلام دشمنی اور باطل پرستی کا مظہر ہے مگر ایک وقائع نگار کی حیثیت سے میں اسے ترک نہ کرنے پر مجبور ہوں۔جب اس مباحثہ کے انعقاد کے متعلق تمام ضروری امور اور شرائط تصفیہ پا کر مباحثہ کی تاریخیں بھی مقرر ہو گئیں تو مولوی محمدحسین کو ناگوار ہوا کہ اس مباحثہ میں اسے کسی نے نہ پوچھا اور حضرت مرزا صاحب اس جنگِ مقدس میں مسلمانوں کے رہنما قرار پائے تو انہیں اپنی مخالفت کی وجہ سے جو عداوت کا رنگ اختیار کر چکی تھی پادریوں کی طرف رجوع کرنے کا موقعہ ہاتھ آیا اور عیسائی خود پریشان تھے کہ انہوں نے اس مباحثہ کو کیوں منظور کر لیا اس لئے وہ بھی اس کے ٹلانے کے لئے بہانہ تلاش کرتے تھے۔مولوی محمد حسین صاحب نے ڈاکٹر کلارک کو سمجھایا کہ جبکہ علمائے اسلام نے۔۔۔حضرت مرزا صاحب کے خلاف کفر کا فتویٰ دے رکھا ہے تو وہ