حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 171
حیات احمد 121 جلد چهارم میں ہے عیسائی مذہب اس روشنی سے بے نصیب ہے۔اور ہماری یہ بحث جو ڈاکٹر کلارک صاحب سے ہے اس غرض اور اسی شرط سے ہے کہ اگر وہ اس مقابلہ سے انکار کریں تو یقیناً سمجھو کہ عیسائی مذہب کے بطلان کے لئے یہی دلیل ہزار دلیل سے بڑھ کر ہے کہ مردہ ہرگز زندہ کا مقابلہ نہیں کر سکتا اور نہ اندھا سو جاکھے کے ساتھ پورا اتر سکتا ہے۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى در مئی ۱۸۹۳ء خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور ٹائیٹل پیج حجۃ الاسلام روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۴۲ ۴۳۰ ) حجۃ الاسلام کی اشاعت پر مسٹر آتھم کا اقرار یہ رسالہ ڈاکٹر کلارک۔مسٹر آتھم اور بہت سے لوگوں کو بھیجا گیا تا کہ پبلک اصل مقصد کو سمجھ لے اس رسالہ کے جواب میں مسٹر آتھم نے نہایت صفائی سے اس سے اتفاق کیا اور ۹ رمئی ۱۸۹۳ء کو مندر جی ذیل خط لکھا۔مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب وکیل ڈاکٹر مارٹن کلارک صاحب و دیگر عیسائیان کا بصورت مغلوب ہو جانے کے مسلمان ہو جانے کا وعدہ ہم اس وقت مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب سابق ایکسٹرا اسٹنٹ حال پنشنر رئیس امرت سر کا وہ وعدہ ذیل میں لکھتے ہیں جو انہوں نے بحیثیت وکالت ڈاکٹر مارٹن کلارک صاحب و عیسائیان جنڈیالہ مسلمان ہونے کے لئے بحالت مغلوبیت کیا ہے صاحب موصوف نے اپنے اقرار نامہ میں صاف صاف اقرار فرما دیا ہے کہ اگر وہ معقول بحث کی رو سے یا کسی نشان کے دیکھنے سے مغلوب رہ جائیں تو دین اسلام اختیار کر لیں گے اور وہ یہ ہے۔