حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 165 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 165

حیات احمد ۱۶۵ جلد چهارم کرنے کی غرض سے خدا تعالیٰ کے پاک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کرنی پڑی تھیں ایسا ہی کثرت ازدواج کے اعتراض میں ہماری طرف سے وہی معمولی جواب ہوگا کہ اسلام سے پہلے اکثر قوموں میں کثرت ازدواج کی سینکڑوں اور ہزاروں تک نوبت پہنچ گئی تھی اور اسلام نے تعداد ازدواج کو کم کیا ہے نہ زیادہ۔بلکہ یہ قر آن میں ہی ایک فضیلت خاص ہے کہ اس نے ازدواج کی بے حدی اور بے قیدی کو رد کر دیا ہے۔اور کیا وہ اسرائیلی قوم کے مقدس نبی جنہوں نے منتوا متوا بیوی کی بلکہ بعض نے سات سو تک نوبت پہنچائی وہ اخیر عمر تک حرام کاری میں مبتلا رہے اور کیا اُن کی اولا د جن میں سے بعض را ستباز بلکہ نبی بھی تھے ناجائز طریق کی اولاد سمجھی جاتی ہے۔ایسا ہی بہشت کی نسبت بھی وہی معمولی جواب ہوگا کہ مسلمانوں کا بہشت صرف جسمانی بہشت نہیں بلکہ دیدار الہی کا گھر ہے اور دونوں قسم کی سعادتوں روحانی اور جسمانی کی جگہ ہے ہاں عیسائی صاحبوں کا دوزخ محض جسمانی ہے۔لیکن اس جگہ سوال تو یہ ہے کہ ان مباحثات کا نتیجہ کیا ہو گا کیا امید رکھ سکتے ہیں کہ عیسائی صاحبان مسلمانوں کے ان جوابات کو جو سراسر حق اور انصاف پر مبنی ہیں قبول کر لیں گے یا ایک انسان کے خدا بنانے کیلئے صرف معجزات کافی سمجھے جائیں گے یا بائیبل کی وہ عبارتیں جن میں علاوہ حضرت مسیح کے ذکر کے کہیں یہ لکھا ہے کہ تم سب خدا کے بیٹے ہو اور کہیں یہ کہ تم اس کی بیٹیاں ہو اور کہیں یہ کہ تم سب خدا ہو ظاہر پر محمول قرار دئے جائیں گے اور جب ایسا ہونا ممکن نہیں تو میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس بحث کا عمدہ نتیجہ جس کے لئے ۱۲ دن امرتسر میں ٹھہر نا ضروری ہے کیا ہوگا۔ان وجوہات کے خیال سے ڈاکٹر صاحب کو بذریعہ خط رجسٹر ڈ یہ صلاح دی گئی تھی کہ مناسب ہے کہ چھ دن کے بعد یعنی جب فریقین اپنے اپنے چھ دن پورے کر لیں تو ان میں مباہلہ بھی ہو اور وہ صرف اس قدر کافی ہے کہ فریقین اپنے مذہب