حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 152
حیات احمد ۱۵۲ جلد چهارم تھا اور آپ کے یہ تمام شرائط کے موافق ہے۔میرے نزدیک آپ کے انصاف کا یہ معیار ہے اگر آپ نے اس نشان کو مان لیا اور حسب اقرار اپنے اپنی غلطی کی بھی اصلاح کی تو مجھے پختہ یقین ہوگا کہ اب آئندہ بھی آپ اپنی بڑی اصلاح کے لئے مستعد ہیں۔اس نشان کا اس قدر تو آپ پر ضرور اثر ہونا چاہیے کہ کم سے کم آپ یہ اقرار اپنا شائع کردیں کہ اگر چہ ابھی قطعی طور پر نہیں مگر ظن غالب کے طور پر دین اسلام ہی مجھے سچا معلوم ہوتا ہے۔کیونکہ تحدی کے طور پر اس کی تائید کے بارہ میں جو پیشگوئی کی گئی تھی وہ پوری ہو گئی۔آپ جانتے ہیں کہ امام الدین دینِ اسلام سے منکر اور ایک دہر یہ آدمی ہے۔اور اُس نے اشتہار کے ذریعہ سے دینِ اسلام کی سچائی اور اس عاجز کے ملہم ہونے کے بارے میں ایک نشان طلب کیا تھا جس کو خدا تعالیٰ نے نزدیک کی راہ سے اسی کے عزیزوں پر ڈال کر اس پر اتمام حجت کی آپ اس نشان کے رد یا قبول کے بارے میں ضرور جواب دیں ورنہ ہمارا ایک پہلا قرضہ ہے جو آپ کے ذمے رہے گا۔قولة۔مباہلات بھی از فقسم مجزات ہی ہیں۔مگر ہم بروئے تعلیم انجیل کسی کے لئے لعنت نہیں مانگ سکتے۔جناب صاحب اختیار ہیں جو چاہیں مانگیں اور انتظار جواب ایک سال تک کریں۔اقولُ۔صاحب من مباہلہ میں دوسرے پر لعنت ڈالنا ضروری نہیں بلکہ اتنا کہنا کافی ہوتا ہے کہ مثلاً ایک عیسائی کہے کہ میں پورے یقین سے کہتا ہوں کہ درحقیقت حضرت مسیح خدا ہیں اور قرآن خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں اور اگر میں اس بیان میں کا ذب ہوں تو خدا تعالیٰ میرے پر لعنت کرے سو یہ صورت مباہلہ انجیل کے مخالف نہیں بلکہ عین موافق ہے۔آپ غور سے انجیل کو پڑھیں۔ماسوا اس کے میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ اگر آپ نشان نمائی کے مقابلہ سے عاجز ہیں تو پھر یک طرفہ اس عاجز کی