حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 151
حیات احمد ۱۵۱ جلد چهارم معجزہ کے بظہور آوے اور کہ مصدق کسی امر ممکن کا ہو۔اقولُ۔اس سے مجھے اتفاق ہے اور تحدی اسی بات کا نام ہے کہ مثلاً ایک شخص منجانب اللہ ہونے کا دعویٰ کر کے اپنے دعوے کی تصدیق کے لئے کوئی ایسی پیش گوئی کرے جو انسان کی طاقت سے بالا تر ہو اور وہ پیش گوئی سچی نکلے تو وہ حسب منشاء توریت استثناء ۱۸ - ۱۸ سچا ٹھہرے گا۔ہاں یہ سچ ہے کہ ایسا نشان کسی امر ممکن کا مصدق ہونا چاہیے ورنہ یہ تو جائز نہیں کہ کوئی انسان مثلاً یہ کہے کہ میں خدا ہوں اور اپنی خدائی کے ثبوت میں کوئی پیشگوئی کرے اور وہ پیشگوئی پوری ہو جائے تو پھر وہ خدا مانا جاوے۔لیکن میں اس جگہ آپ سے دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ جب اس عاجز نے مہم اور مامور من اللہ ہونے کا دعوی کیا تھا تو ۱۸۸۸ء میں مرزا امام الدین نے جس کو آپ خوب جانتے ہیں چشمہ نور امرتسر میں میرے مقابلہ پر اشتہار چھپوا کر مجھ سے نشان طلب کیا تھا۔تب بطور نشان نمائی ایک پیش گوئی کی گئی تھی جو نور افشاں ۱۰ رمئی ۱۸۸۸ء میں شائع ہو گئی تھی جس کا مفصل ذکر اس اخبار میں اور نیز میری کتاب آئینہ کمالات کے صفحہ ۲۷۹ و ۲۸۰ میں موجود ہے اور وہ پیش گوئی ۳۰ ستمبر ۱۸۹۲ء کو اپنی میعاد کے اندر پوری ہوگئی۔سو اب بطور آزمائش آپ کے انصاف کے آپ سے پوچھتا ہوں کہ یہ نشان ہے یا نہیں اور اگر نشان نہیں تو اس کی کیا وجہ ہے اور اگر نشان ہے اور آپ نے اس کو دیکھ بھی لیا اور نہ صرف نورافشاں ۱۰ رمئی ۱۸۸۸ء میں بلکہ میرے اشتہار مجریہ، ارجولائی ۱۸۸۸ء میں بقید میعاد یہ شائع بھی ہو چکا ہے تو آپ فرما دیں کہ آپ کا اس وقت فرض عین ہے یا نہیں کہ اس نشان سے بھی فائدہ اٹھاویں اور اپنی غلطی کی اصلاح کریں اور براہ مہربانی مجھ کو اطلاع دیں کہ کیا اصلاح کی اور کس قدر عیسائی اصول سے آپ دست بردار ہو گئے؟ کیونکہ یہ نشان تو کچھ پرانا نہیں ابھی کل کی بات ہے کہ نور افشاں اور میرے اشتہار • ار جولائی ۱۸۸۸ء میں شائع ہوا