حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 153 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 153

حیات احمد ۱۵۳ جلد چهارم۔طرف سے سہی مجھ کو بسر و چشم منظور ہے آپ اقرار نامه حسب نمونه مرقومه بالا شائع کریں اور جس وقت آپ فرما دیں میں بلا توقف امرتسر حاضر ہو جاؤں گا۔یہ تو مجھ کو پہلے ہی سے معلوم ہے کہ عیسائی مذہب اسی دن سے تاریکی میں پڑا ہوا ہے جب سے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو خدا تعالی کی جگہ دی گئی اور جب کہ حضرات عیسائیوں نے ایک بچے اور کامل اور مقدس نبی افضل الانبیا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیا۔اس لئے میں یقیناً جانتا ہوں کہ حضرات عیسائی صاحبوں میں سے یہ طاقت کسی میں بھی نہیں کہ اسلام کے زندہ نوروں کا مقابلہ کر سکیں۔میں دیکھتا ہوں کہ وہ نجات اور حیات ابدی جس کا ذکر عیسائی صاحبوں کی زبان پر ہے وہ اہل اسلام کے کامل افراد میں سورج کی طرح چمک رہی ہے۔اسلام میں یہ ایک زبر دست خاصیت ہے کہ وہ ظلمت سے نکال کر اپنے نور میں داخل کرتا ہے۔جس نور کی برکت سے مومن میں کھلے کھلے آثار قبولیت پیدا ہو جاتے ہیں اور خدا تعالیٰ کا شرف مکالمہ میسر آجاتا ہے اور خدا تعالیٰ اپنی محبت کی نشانیاں اس میں ظاہر کر دیتا ہے سو میں زور سے اور دعویٰ سے کہتا ہوں کہ ایمانی زندگی صرف کامل مسلمان کو ہی ملتی ہے اور یہی اسلام کی سچائی کی نشانی ہے۔آب آپ کے خط کا ضروری جواب ہو چکا اور یہ اشتہار ایک رسالہ کی صورت پر مرتب کر کے آپ کی خدمت میں اور نیز ڈاکٹر کلارک صاحب کی خدمت میں بذریعہ رجسٹری روانہ کرتا ہوں۔اب میری طرف سے حجت پوری ہو چکی آئندہ آپ کو اختیار ہے۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى راقم خاکسار میرزا غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور حجه الاسلام ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۵۲ تا ۵۷ مکتوبات احمد جلد اول صفحه ۱۵۷ تا ۱۲۵ مطبوعہ ۲۰۰۸ء)