حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 125
حیات احمد ۱۲۵ جلد چهارم اور میرے پر لعنت بھیجنا اسلام کا طریق قرار دیا۔پر ان سب تلخیوں اور دکھوں کے وقت خدا میرے ساتھ تھا۔ہاں وہی تھا جو ہر وقت مجھے تسلی اور اطمینان دیتا رہا۔کیا ایک کیڑا ایک جہان کے مقابل کھڑا ہو سکتا ہے۔کیا ایک ذرہ تمام دنیا کا مقابلہ کرے گا۔کیا ایک دروغ گو کی ناپاک روح یہ استقامت رکھتی ہے۔کیا ایک ناچیز مفتری کو یہ طاقتیں حاصل ہوسکتی ہیں۔سویقینا سمجھو کہ تم مجھ سے نہیں بلکہ خدا سے لڑ رہے ہو۔کیا تم خوشبو اور بد بو میں فرق نہیں کر سکتے۔کیا تم سچائی کی شوکت کو نہیں دیکھتے۔بہتر تھا کہ تم خدا تعالیٰ کے سامنے روتے۔اور ایک ترسان اور ہراسان دل کے ساتھ اس سے میری نسبت ہدایت طلب کرتے اور پھر یقین کی پیروی کرتے نہ شک اور وہم کی۔سواب اٹھو اور مباہلہ کے لئے طیار ہو جاؤ۔تم سن چکے ہو کہ میرا دعویٰ دو باتوں پر مبنی تھا۔اول نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ پر دوسرے الہامات الہیہ پر سو تم نے نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کو قبول نہ کیا اور خدا کے کلام کو یوں ٹال دیا جیسا کہ کوئی تنکہ توڑ کر پھینک دے۔اب میرے بناء دعوی کا دوسرا شق باقی رہا۔سو میں اُس ذات قادر و غیور کی آپ کو قسم دیتا ہوں جس کی قسم کو کوئی ایماندار رڈ نہیں کرسکتا کہ اب اس دوسری بنا کی تصفیہ کے لئے مجھے سے مباہلہ کر لو۔اور یوں ہوگا کہ تاریخ اور مقام مباہلہ کے مقرر ہونے کے بعد میں ان تمام الہامات کے پرچہ کو جو لکھ چکا ہوں اپنے ہاتھ میں لے کر میدانِ مباہلہ میں حاضر ہوں گا اور دعا کروں گا کہ یا الہی اگر یہ الہامات جو میرے ہاتھ میں ہیں میرا ہی افترا ہے اور تو جانتا ہے کہ میں نے ان کو اپنی طرف سے بنالیا ہے یا اگر یہ شیطانی وساوس ہیں اور تیرے الہام نہیں تو آج کی تاریخ سے ایک برس گزرنے سے پہلے مجھے وفات دے یا کسی ایسے عذاب میں مبتلا کر جو موت سے بدتر ہو اور اُس سے رہائی عطا نہ کر