حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 126
حیات احمد ۱۲۶ جلد چهارم جب تک کہ موت آجائے تا میری ذلت ظاہر ہو اور لوگ میرے فتنہ سے بچ جائیں کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ میرے سبب سے تیرے بندے فتنہ اور ضلالت میں پڑیں۔اور ایسے مفتری کا مرنا ہی بہتر ہے۔لیکن اے خدائے علیم وخبیر اگر تو جانتا ہے کہ یہ تمام الہامات جو میرے ہاتھ میں ہیں تیرے ہی الہام ہیں اور تیرے منہ کی باتیں ہیں تو ان مخالفوں کو جو اس وقت حاضر ہیں ایک سال کے عرصہ تک نہایت سخت دکھ کی مار میں مبتلا کر۔کسی کو اندھا کر دے اور کسی کو مجزوم اور کسی کو مفلوج اور کسی کو مجنون اور کسی کو مصروع اور کسی کو سانپ یا سگِ دیوانہ کا شکار بنا۔اور کسی کے مال پر آفت نازل کر اور کسی کی جان پر اور کسی کی عزت پر۔اور جب میں یہ دعا کر چکوں تو دونوں فریق کہیں کہ آمین۔ایسا ہی فریق ثانی کی جماعت میں سے ہر ایک شخص جو مباہلہ کے لئے حاضر ہو جناب الہی میں یہ دعا کرے کہ اے خدائے علیم وخبیر ہم اس شخص کو جس کا نام غلام احمد ہے در حقیقت کذاب اور مفتری اور کافر اور بیدین ہے اور اس کے یہ الہام تیری طرف سے نہیں بلکہ اپنا ہی افترا ہے تو اس امت مرحومہ پر یہ احسان کر کہ اس مفتری کو ایک سال کے اندر ہلاک کر دے تا لوگ اس کے فتنہ سے امن میں آجائیں۔اور اگر یہ مفتری نہیں اور تیری طرف سے ہے اور یہ تمام الہامات تیرے ہی منہ کی پاک باتیں ہیں تو ہم پر جو اس کو کافر اور کذاب سمجھتے ہیں دکھ اور ذلت سے بھرا ہوا عذاب ایک برس کے اندر نازل کر اور کسی کو اندھا کر دے اور کسی کو مجذوم اور کسی کو مفلوج اور کسی کو مجنوں اور کسی کو مصروع اور کسی کو سانپ یا سگِ دیوانہ کا شکار بنا اور کسی کے مال پر آفت نازل کر اور کسی کی جان پر اور کسی کی عزت پر۔اور جب یہ دعا فریق ثانی کر چکے تو دونوں فریق کہیں کہ آمین۔اور یادر ہے کہ اگر کوئی شخص مجھے کذاب اور مفتری تو جانتا ہے مگر کافر کہنے سے پر ہیز رکھتا ہے تو اس کو اختیار ہوگا کہ اپنے دعائے مباہلہ میں صرف کذاب اور مفتری کا لفظ استعمال کرے