حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 124 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 124

حیات احمد ۱۲۴ جلد چهارم بڑھ گئی ہے۔اور اگر چہ یہ جماعت بہ نسبت تمہاری جماعتوں کے تھوڑی سی اور فــــه قلیلہ ہے اور شاید اس وقت چار ہزار پانچ ہزار سے زیادہ نہیں ہوگی تاہم یقینا سمجھو کہ یہ خدا کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودہ ہے۔خدا اس کو ہرگز ضائع نہیں کرے گا۔وہ راضی نہیں ہوگا جب تک اس کو کمال تک نہ پہنچاوے۔اور وہ اس کی آبپاشی کرے گا اور اس کے گر دا حاطہ بنائے گا اور تعجب انگیز تر قیات دے گا۔کیا تم نے کچھ کم زور لگایا۔پس اگر یہ انسان کا کام ہوتا تو کبھی کا یہ درخت کاٹا جاتا اور اس کا نام ونشان باقی نہ رہتا۔اُسی نے مجھے حکم دیا ہے کہ تا میں آپ لوگوں کے سامنے مباہلہ کی درخواست پیش کروں تا جو راستی کا دشمن ہے وہ تباہ ہو جائے اور جو اندھیرے کو پسند کرتا ہے وہ عذاب کے اندھیرے میں پڑے۔پہلے میں نے کبھی ایسے مباہلہ کی نیت نہیں کی اور نہ چاہا کہ کسی پر بددعا کروں۔عبدالحق غزنوی ثم امرتسری نے مجھ سے مباہلہ چاہا مگر میں مدت تک اعراض کرتا رہا۔آخر اس کے نہایت اصرار سے مباہلہ ہوا۔مگر میں نے اس کے حق میں کوئی بددعا نہیں کی لیکن اب میں بہت ستایا گیا اور دکھ دیا گیا۔مجھے کافر ٹھہرایا گیا، مجھے دجال کہا گیا، میرا نام شیطان رکھا گیا، مجھے کذاب اور مفتری سمجھا گیا۔میں ان کے اشتہاروں میں لعنت کے ساتھ یاد کیا گیا۔میں ان کی مجلسوں میں نفرین کے ساتھ پکارا گیا۔میری تکفیر پر آپ لوگوں نے ایسی کمر باندھی کہ گویا آپ کو کچھ بھی شک میرے کفر میں نہیں۔ہر ایک نے مجھے گالی دینا اجر عظیم کا موجب سمجھا۔بقیہ نوٹ۔عقائد کے پابند ہو گئے ہیں۔دنیا میں تم کوئی ایسی کتاب دکھا نہیں سکتے جس میں صاف اور بے تناقض لفظوں میں کھلا کھلا یہ دعوئی ہو کہ خدا کی کتاب ہے حالانکہ اصل میں وہ خدا کی کتاب نہ ہو بلکہ کسی مفتری کا افترا ہو اور ایک قوم اس کو عزت کے ساتھ مانتی چلی آئی ہو۔ہاں ممکن ہے کہ خدا کی کتاب کے الٹے معنی کئے گئے ہوں۔جس حالت میں انسانی گورنمنٹ ایسے شخص کو نہایت غیرت مندی کے ساتھ پکڑتی ہے کہ جو جھوٹے طور پر ملازم سرکاری ہونے کا دعویٰ کرے تو خدا جو اپنے جلال اور ملکوت کے لئے غیرت رکھتا ہے کیوں جھوٹے مدعی کو نہ پکڑے۔منہ