حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 100 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 100

حیات احمد جلد چهارم مباہلہ کے لئے اعلان آپ کی مخالفت میں مباہلہ کا اعلان عبد الحق غزنوی نے کیا تھا اور اپنے بعض الہامات بھی اپنی کامیابی کے شائع کئے تھے۔اس وقت آپ نے مباہلہ کی صورت کو جائز نہیں قرار دیا تھا اس لئے کہ فریقین کو کافر قرار نہیں دیا گیا تھا۔مگر جب آپ کے خلاف فتویٰ کفر کی اشاعت ہوئی تو یہ عذر باقی نہ رہا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت ہونے پر آپ نے آئینہ کمالات اسلام میں مکفرین کو دعوت مباہلہ پہلی دفعہ دی اور آپ نے تحریر فرمایا۔مباہلہ کے لئے اشتہار ان تمام مولویوں اور مفتیوں کی خدمت میں جو اس عاجز کو جزئی اختلافات کے وجہ سے یا اپنی نافہمی کے باعث سے کافر ٹھہراتے ہیں عرض کیا جاتا ہے کہ اب میں خدا تعالیٰ سے مامور ہو گیا ہوں کہ تا میں آپ لوگوں سے مباہلہ کرنے کی درخواست کروں۔اس طرح پر کہ اول آپ کو مجلس مباہلہ میں اپنے عقائد کے دلائل از روئے قرآن اور حدیث کے سناؤں اگر پھر بھی آپ لوگ تکفیر سے باز نہ آویں تو اُسی مجلس میں مباہلہ کروں۔سو میرے پہلے مخاطب میاں نذیر حسین دہلوی ہیں اور اگر وہ انکار کریں تو پھر شیخ محمد حسین بطالوی اور اگر وہ انکار کریں تو پھر بعد اس کے تمام وہ مولوی صاحبان جو مجھ کو کافر ٹھہراتے اور مسلمانوں میں سرگروہ سمجھے جاتے ہیں اور میں ان تمام بزرگوں کو آج کی تاریخ سے جو دہم دسمبر ۱۸۹۲ء ہے چار ماہ تک مہلت دیتا ہوں۔اگر چار ماہ تک ان لوگوں نے مجھ سے بشرائط متذکرہ بالا مباہلہ نہ کیا اور نہ کافر کہنے سے باز آئے تو پھر اللہ تعالیٰ کی حجت ان پر پوری ہوگی۔میں اوّل یہ چاہتا تھا کہ