حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 101 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 101

حیات احمد 1+1 جلد چهارم وہ تمام بے جا الزامات جو میری نسبت ان لوگوں نے قائم کر کے موجب کفر قرار دیئے ہیں اس رسالہ میں ان کا جواب شائع کروں لیکن باعث بیمار ہو جانے کا تب اور حرج واقع ہونے کے ابھی وہ حصہ طبع نہیں ہوسکا سو میں مباہلہ کی مجلس میں وہ مضمون بہر حال سنادوں گا اگر اُس وقت طبع ہو گیا ہو یا نہ ہوا ہو۔لیکن یادر ہے کہ ہماری طرف سے یہ شرط ضروری ہے کہ تکفیر کے فتویٰ لکھنے والوں نے جو کچھ سمجھا ہے اوّل اُس تحریر کی غلطی ظاہر کی جائے اور اپنی طرف سے دلائل شافیہ کے ساتھ اتمام حجت کیا جائے اور پھر اگر باز نہ آویں تو اُسی مجلس میں مباہلہ کیا جائے اور مباہلہ کی اجازت کے بارے میں جو کلام الہی میرے پر نازل ہوا وہ یہ ہے۔نَظَرَ اللهُ إِلَيْكَ مُعَطَّرًا - وَقَالُوْا اَتَجْعَلُ فِيْهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيْهَا - قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ - قَالُوْا كِتَابٌ مُمْتَلِيٌّ مِّنَ الْكُفْرِ وَالْكِذْبِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنْفُسَنَا وَأَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللهِ عَلَى الْكَذِبِينَ - یعنی خدا تعالیٰ نے ایک معطر نظر سے تجھ کو دیکھا اور بعض لوگوں نے اپنے دلوں میں کہا کہ اے خدا تو زمین پر ایک ایسے شخص کو قائم کر دے گا کہ جو دنیا میں فساد پھیلا دے۔تو خدا تعالیٰ نے ان کو جواب دیا کہ جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔اور اُن لوگوں نے کہا کہ اس شخص کی کتاب ایک ایسی کتاب ہے جو کذب اور کفر سے بھری ہوئی ہے۔سو اُن کو کہہ دے کہ آؤ ہم اور تم معہ اپنی عورتوں اور بیٹوں اور نم عزیزوں کے مباہلہ کریں پھر اُن پر لعنت کریں جو کا ذب ہیں۔یہ وہ اجازت مباہلہ ہے جو اس عاجز کو دی گئی لیکن ساتھ اس کے جو بطور تبشیر کے اور الہامات ہوئے ان میں سے بھی کسی قدر لکھتا ہوں۔اور وہ یہ ہیں۔يَوْمَ يَجِيءُ الْحَقُّ وَيُكْشَفُ الصِّدْقُ وَيَخْسَرُ الْخَاسِرُوْنَ۔أَنْتَ مَعِى ال عمران : ۶۱