حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم)

by Other Authors

Page 99 of 618

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 99

حیات احمد ۹۹ جلد چهارم اور کا اور لکھ ماریں۔لیکن پھر اس بات سے تسلی ہوتی ہے کہ ایسے صاف اور کھلے کھلے اقرار کے بعد کہ میں نے آپ کی ہر ایک بات مان لی ہے ہرگز ممکن نہیں کہ آپ گریز کی طرف رخ کریں۔اور اب آپ کے لئے یہ امر ممکن بھی نہیں کیونکہ آپ ان شرائط پیش کردہ کو بغیر اس عذر کے کہ ان کی انجام دہی کی مجھ میں لیاقت نہیں اور کسی صورت سے چھوڑ نہیں سکتے اور خود جیسا کہ آپ اپنے اس خط میں قبول کر چکے ہیں کہ میں نے ہر ایک بات مان لی تو پھر ماننے کے بعد انکار کرنا خلاف وعدہ ہے۔مجھے اس بات سے بھی خوشی ہوئی کہ میری تحریر کے موافق آپ مباہلہ کے لئے بھی تیار ہیں اور اپنی ذات کی نسبت کوئی نشان بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔سبحان اللہ ! اب تو آپ کچھ رخ پر آگئے۔اگر رسالہ میں کچھ نئے پتھر نہ ڈال دیں۔مگر کیونکر ڈال سکتے ہیں۔آپ کا یہ فقرہ کہ میں آپ کی ہر ایک بات کی اجابت کے لئے مستعد ہوں۔طیار ہوں ، حاضر ہوں، صاف خوش خبری دے رہا ہے کہ آپ نے میری ہر ایک بات اور ہر ایک شرط کو سچے دل سے مان لیا ہے اب میں مناسب دیکھتا ہوں کہ اس خوش خبری کو چھپایا نہ جائے بلکہ چھپوایا جائے۔اس لئے میں مع آپ کے خط کے اس خط کو چھاپ کر آپ کی خدمت میں نذر کرتا ہوں اور ایفاء وعدہ کا منتظر ہوں۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور ۱۹ ر اپریل ۱۸۹۳ء تبلیغ رسالت جلد ۳ صفحه ۲۲ تا ۲۴ مجموعه اشتہارات جلد اصفحه ۲۱ ۳ تا ۳۲۳ طبع بار دوم )