حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 98
حیات احمد ۹۸ جلد چهارم ہی خوشی ہوئی کہ آپ نے اپنے خط کی دفعہ ۲ میں صاف لکھ دیا کہ میں تمہاری ہر ایک بات کی اجابت کے لئے مستعد ہوں۔سو اس اشتہار کے متعلق وہ باتیں جن کو آپ نے قبول کر لیا صرف تین ہی ہیں زیادہ نہیں۔اول یہ کہ ایک مجلس قرار پا کر قرعہ اندازی کے ذریعہ سے قرآن کریم کی ایک سورت جس کی آیتیں انٹی سے کم نہ ہوں تفسیر کرنے کے لئے قرار پاوے۔اور ایسا ہی قرعہ اندازی کے رو سے قصیدہ کا بحر تجویز کیا جائے۔دوسری یہ کہ وہ تفسیر قرآن کریم کے ایسے حقائق و معارف پر مشتمل ہو جو جدید ہوں اور منقولات کی مد میں داخل نہ ہو سکیں۔اور با ایں ہمہ عقیدہ متفق علیہا اہلِ سنت والجماعت سے مخالف بھی نہ ہو اور یہ تغییر عربی بلیغ فصیح اور مقفی عبارت میں ہو۔اور ساتھ اس کے سو شعر عربی بطور قصیدہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں ہوں۔تیسری یہ کہ فریقین کے لئے چالیس دن کی مہلت ہو۔اس مہلت میں جو کچھ لکھ سکتے ہیں لکھیں اور پھر ایک مجلس میں سناویں۔پس جبکہ آپ نے یہ کہہ دیا کہ میں آپ کی ہر ایک بات کی اجابت کے لئے مستعد ہوں تو صاف طور پر کھل گیا کہ آپ نے یہ تینوں باتیں مان لیں اب انشاء اللہ القدیر اسی پر سب فیصلہ ہو جائے گا۔آج اگر چہ روز عید سے دوسرا دن ہے مگر اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ آپ کے مان لینے اور قبول کرنے سے مجھے اس قدر خوشی ہوئی کہ میں آج کے دن کو بھی عید کا ہی دن سمجھتا ہوں اَلْحَمْدُ لِلَّهِ ثُمَّ الْحَمْدُ لِلَّهِ کہ اب ایک کھلے کھلے فیصلہ کے لئے بات قائم ہو گئی اب لوگ اس بات کو بہت جلد اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ خدا تعالیٰ اس عاجز کو بقول آپ کے کافر اور کذاب ثابت کرتا ہے یا وہ امر ظاہر کرتا ہے جو صادقین کی تائید کے لئے اس کی عادت ہے۔اگر چہ دل میں اس وقت یہ بھی خیال آتا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ آپ اس صاف اقرار کے بعد رسالہ میں کچھ