حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 95
حیات احمد ۹۵ جلد چهارم میں یہ لکھنا کہ ۱/۲۰اپریل تک جواب ملے ورنہ گریز مشتہر کیا جائے گا کمال درجہ کی خفت و وقاحت ہے۔اگر بعد اشتہار ان کا ادھر سے اجابت کا اشتہار ہوا تو پھر کون شرمندہ ہوگا ؟ (۴) ہماری طرف سے جو جواب خط نمبری ۲۱۔مورخہ ۹ جنوری ۱۸۹۳ء کے لئے ایک ماہ کی میعاد مقرر ہوئی تھی اس کا لحاظ تم نے یہ کیا کہ تیسرے مہینے کے اخیر میں جواب دیا۔پھر اپنی طرف سے یہ حکومت کہ جواب دو ہفتہ یا ۲۰ را پریل تک آوے کیوں موجب شرم نہ ہوئی۔تم نے اپنے آپ کو کیا سمجھا ہے؟ اور اس حکومت کی کیا وجہ ہے۔جن پر تم حکومت کرتے ہو۔وہ تم کو دجال، کذاب کافر و زندیق سمجھتے ہیں۔پھر وہ ایسی حکومتوں کو کیونکر تسلیم کریں کیا تم نے سب کو اپنا مرید ہی سمجھ رکھا ہے ذرا عقل سے کام لو کچھ تو شرم کرو۔دین سے تعلق نہیں رہا تو کیا دنیا سے بھی بے تعلق ہو؟ اس کی رسید ڈاک خانہ سے لی گئی ہے۔وصولی سے انکار کرو گے تو وہ رسید تمہاری مکذب ہوگی۔( ابوسعید محمد حسین عفا اللہ عنہ ایڈیٹر اشاعۃ السنہ ) بقیہ حاشیہ۔اقرار کرے گا اور اپنی کتابیں جلا دے گا۔اور شیخ محمد حسین کا حق ہوگا کہ اس وقت اس عاجز کے گلے میں رستہ ڈال کر یہ کہے کہ اے کذاب، اے دجال، اے مفتری ، آج تیری رسوائی ظاہر ہوئی۔اب کہاں ہے وہ جس کو تو کہتا تھا کہ میرا مددگار ہے۔اب تیرا الہام کہاں ہے اور تیرے خوارق کدھر چھپ گئے۔لیکن اگر یہ عاجز غالب ہوا تو پھر چاہیے کہ میاں محمد حسین اسی مجلس میں کھڑے ہو کر ان الفاظ سے تو بہ کرے کہ اے حاضرین آج میری روسیا ہی ایسی کھل گئی کہ جیسا آفتاب کے نکلنے سے دن کھل جاتا ہے اور اب ثابت ہوا کہ یہ شخص حق پر ہے اور میں ہی دقبال تھا۔اور میں ہی کذاب تھا اور میں ہی کافر تھا اور میں ہی بے دین تھا اور اب میں تو بہ کرتا ہوں۔سب گواہ رہیں۔بعد اس کے اس مجلس میں اپنی کتابیں جلا دے اور ادنیٰ خادموں کی طرح پیچھے ہولے ہو صاحبو! یہ طریق فیصلہ ہے جو اس وقت میں نے ظاہر کیا ہے۔میاں محمد حسین کو اس پر سخت اصرار ہے کہ یہ عاجز عربی علوم سے بالکل بے بہرہ اور کو دن اور نادان اور جاہل ہے اور علم قرآن سے بالکل بے خبر ہے اور خدا تعالیٰ سے مدد پانے کے لائق ہی نہیں کیونکہ کذاب اور دجال ہے اور ساتھ اس کے ان کو اپنے کمال علم اور فضل کا بھی دعوی ہے کیونکہ ان کے نزدیک حضرت مخدوم مولوی حکیم نورالدین صاحب جو اس عاجز کی نظر میں علامہ عصر اور جامع علوم ہیں صرف ایک حکیم اور اخویم مکرم مولوی سید محمد حسن صاحب جو گویا علم حدیث کے ایک پتلے ہیں ہی شیخ بٹالوی کو اختیار ہوگا کہ میاں شیخ الکل اور تمام دوسرے منکر ملاؤں کو ساتھ ملا لے۔منہ