حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد چہارم) — Page 96
حیات احمد ۹۶ جلد چهارم اس خط میں جس طمطراق سے دعوت مقابلہ کی منظوری کا اعلان کیا گیا ہے وہ کبھی عملی صورت اختیار نہ کر سکا۔حضرت اقدس کا جواب چھوٹی سے چھوٹی سورۃ قرآن شریف کی تفسیر کی بھی توفیق شیخ صاحب کو نہ ملی۔حضرت اقدس نے فوراً ۱۹ را پریل ۱۸۹۳ء کو اس کا حسب ذیل جواب چھاپ کر مولوی صاحب کو بھیج دیا اور اس کی عام اشاعت کر دی گئی۔بقیہ حاشیہ۔صرف ایک منشی ہیں۔پھر باوجود ان کے اس دعوی کے اور میرے اس ناقص حال کے جن کو وہ بار بار شائع کر چکے ہیں اس طریق فیصلہ میں کون سا اشتباہ باقی ہے۔اور اگر وہ اس مقابلہ کے لائق نہیں اور اپنی نسبت بھی جھوٹ بولا ہے اور میری نسبت بھی۔اور میرے معظم اور مکرم دوستوں کی نسبت بھی تو پھر ایسا شخص کس قد ر سزا کے لائق ہے کہ کذاب اور دجال تو آپ ہو اور دوسروں کو خواہ نخواہ دروغ گوکر کے مشتہر کرے اور یہ بات بھی یاد رہے کہ یہ عاجز در حقیقت نہایت ضعیف اور بیچ ہے گویا کچھ بھی نہیں لیکن خدا تعالیٰ نے چاہا ہے کہ متکبر کا سر توڑے اور اس کو دکھاوے کہ آسمانی مدد اس کا نام ہے چند ماہ کا عرصہ ہوا۔جس کی تاریخ مجھے یاد نہیں کہ ایک مضمون میں نے میاں محمد حسین کا دیکھا جس میں میری نسبت لکھا ہوا تھا کہ یہ شخص کذاب اور دجال اور بے ایمان اور با ایں ہمہ سخت نادان اور جاہل اور علوم دینیہ سے سخت بے خبر ہے۔تب میں جناب الہی میں رویا کہ میری مدد کر تو اس دعا کے بعد الہام ہوا کہ اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ یعنی دعا کرو کہ میں قبول کروں گا۔مگر بالطبع نا فر تھا کہ کسی کے عذاب کے لئے دعا کروں۔آج جو ۲۹ شعبان ۳۱۰لاھ ہے اس مضمون کے لکھنے کے وقت خدا تعالیٰ نے دعا کے لئے دل کھول دیا۔سو میں نے اس وقت اسی طرح سے رقت دل سے اس مقابلہ میں فتح پانے کے لئے دعا کی اور میرا دل کھل گیا اور میں جانتا ہوں کہ قبول ہوگئی۔اور میں جانتا ہوں کہ وہ الہام جو مجھ کو میاں بٹالوی کی نسبت ہوا تھا کہ اِنّی مُهِينٌ مَنْ اَرَادَ اهَانَتَكَ وہ اسی موقعہ کے لئے ہوا تھا میں نے اس مقابلہ کے لئے چالیس دن کا عرصہ ٹھہرا کر دعا کی ہے اور وہی عرصہ میری زبان پر جاری ہوا۔اب صاحبو! اگر میں اس نشان میں جھوٹا نکلا یا میدان سے بھاگ گیا یا کچے بہانوں سے ٹال دیا تو تم سارے گواہ رہو کہ بے شک میں کذاب اور دقبال ہوں۔تب میں ہر یک سزا کے لائق ٹھہروں گا۔کیونکہ اس موقعہ پر ہر یک پہلو سے میرا کذب ثابت ہو جائے گا۔اور دعا کا نا منظور ہونا کھل کر میرے الہام کا باطل ہونا بھی ہر یک پر ہویدا ہو جائے گا۔لیکن اگر میاں بٹالوی مغلوب ہو گئے تو ان کی ذلت اور روسیاہی اور جہالت اور نادانی روز روشن